تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 161
یہاں خدا تعالیٰ کے بولنے کا ذکر نہیں بلکہ ملائکہ کے بولنے کا ذکر ہے۔پس معلوم ہواکہ سورئہ مریم میں خدا تعالیٰ کے بولنے کا جو ذکر ہے۔اس سے مراد بھی براہ راست بولنا نہیں بلکہ ملائکہ یا ان کے سردار جبریل کی معرفت بولنا ہے۔جیسا کہ سورئہ آل عمران میں لکھا ہے پس یہ اختلاف نہیں ایک مزید لطیف تشریح ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ فرشتہ جب کلام کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ ہی کا کلام ہوتا ہے۔اس کے متعلق یہ بھی کہہ سکتے ہیں خدا نے یوں کہا اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فرشتہ نے یوں کہا۔وہیریؔ اس جگہ لکھتا ہے کہ مسلمان دماغ بھی کیسا عجیب ہے بائبل میں لکھا ہے کہ جبریل ظاہر ہوا۔لیکن قرآن کہتا ہے کہ فرشتوں نے اسے پکارا۔اور پھر اسے ایک معمولی اختلاف سمجھتے ہیں(تفسیر وہیری)۔گویا وہیری نے ہنسی اڑائی ہے کہ مسلمان بھی عجیب انسان ہیں اتنا بڑا اختلاف قرآن اور انجیل میں پایاجاتا ہے اورپھر اسے معمولی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اگر غور کیا جائے تو یہ کہنا بھی ٹھیک ہے۔کہ فرشتوں نے یوں کہا اور یہ کہنا بھی درست ہے کہ فرشتہ نے یوں کہا۔کیونکہ قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے اہم کلام ہوتے ہیں۔ان کے نزول کے وقت کئی کئی فرشتے ساتھ ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا۔اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا۔لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا۔(الجن:۲۷ تا ۲۹) یعنی اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اور وہ سوائے اپنے رسولوں کے اور کسی کو اپنے غیب سے کثرت کے ساتھ اطلاع نہیں دیتا اور پھر جو غیب نازل ہوتا ہے اس کے ساتھ بہت سے فرشتے بھی نازل ہوتے ہیں تاکہ وہ اس کلام کی نگرانی کریں۔یہ آیت بتاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنا کوئی اہم کلام کسی فرشتہ کے ذریعہ بھجواتا ہے تو اس کے ساتھ اَوربھی بہت سے سپاہی فرشتے متعین ہوتے ہیں۔پس فرشتہ کہو تب بھی درست ہے کیونکہ بولتے وقت ایک ہی بولے گا اور اگر فرشتے کہو تب بھی درست ہے کیونکہ کلام الٰہی کے ساتھ کئی کئی فرشتے آتے ہیں۔جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اسے ملائکہ نے پکارا تو اس کے معنے یہ تھے کہ چونکہ یہ ایک اہم کلام تھا اس لئے ہم نے بہت سے فرشتوں کے ساتھ اپنا کلام بھجوایا۔اور اگر انجیل نے اسے ایک فرشتہ قرا ر دیا ہے تب بھی درست ہے کیونکہ جب بولے گا تو ایک ہی بولے گا۔مگر اس کا بولنا دوسروں کی نمائندگی میں ہو گا۔جیسے گورنر یا وزراء سے ملنے کے لئے جب کوئی وفد جاتا ہے تو اخباروں والے یہی لکھتے ہیں کہ وفد نے یہ بات کہی۔حالانکہ وفد نہیں بولتا بلکہ ان کی طرف سے کوئی ایک شخص بولتا ہے۔آئیں گے سات آ ٹھ لیکن بولے گا ایک۔اگر سات آٹھ یکدم بولنا شروع کر دیں تو گورنر ان سب کو نکال دے کہ تم کیسے بد تہذیب ہو۔اسی طرح فرشتہ کہو تب بھی درست ہے اور فرشتے کہو تب بھی درست ہے۔تعجب ہے کہ