تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 158

حضرت یحییٰ ؑ کی تعریف آئی ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے کہا کہ ’’ میں تم سے کہتا ہوں کہ ان میں سے جو عورتوں سے پیدا ہوئے یوحنا بپتسمہ دینے والے سے کوئی نبی بڑا نہیں۔‘‘ ( لوقا باب ۷آیت ۲۸) گویا انجیل بھی ان کو بے مثل قرار دیتی ہے۔مگر انجیل نے جو مثال دی ہے وہ غلط ہے۔انجیل کہتی ہے کہ اس سے کوئی بڑا نبی نہیں ہوا۔مگر کیا وہ موسیٰ ؑ سے بھی بڑا تھا؟ حالانکہ وہ موسیٰ ؑ کا تابع تھا۔کیا وہ ابراہیم ؑ سے بھی بڑا تھا؟ حالانکہ وہ ابراہیم کا تابع تھا۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات جو بیان کی گئی ہے غلط ہے۔کیونکہ موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ اور دوسرے کئی انبیاء یوحنا سے بڑے تھے۔لیکن قرآن نے جو کچھ فرمایا ہے۔اس میں اس نے یہ مثال نہیں دی صرف اتنا کہا ہے کہ کسی بات میں ہم نے اسے بے مثل بنایا تھا۔مسیح کہتا ہے کہ وہ بڑے نبی ہونے میں بے مثل ہے مگر خود عیسائی عقیدہ اس کے خلاف ہے پس حضرت یحییٰ کے بے مثل ہونے کا ثبوت بھی انجیل سے مل گیا اور انجیل کے جھوٹا ہونے کا بھی ثبوت مل گیا۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافق تیرے پاس آتے ہیں اور قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے مگر خد اس بات کا بھی گواہ ہے کہ یہ منافق اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں(المنافقون:۲)۔اسی طرح اس حوالہ سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ قرآن نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو جو بے مثل کہا تھا وہ درست تھا انجیل بھی اسے بے مثل مانتی ہے مگر ساتھ ہی جو وجہ اس نے بتائی اس نے بتا دیا کہ انجیل جھوٹی ہے اور قرآن سچا۔کیونکہ وہ وجہ خود عیسائی مسلّمات کے خلاف ہے اور وہ یوحنا کو تمام انبیاء سے بڑا قرار نہیں دیتے۔اب میں بتاتا ہوں کہ یوحنایعنی یحییٰ کا انجیل سے کیا حال معلوم ہوتا ہے۔لوقا میں لکھا ہے زکریا کاہن اور اس کی بیوی الیسبات (یعنی الزبتھ) بڈھے تھے۔عورت بانجھ تھی۔لڑکا کوئی نہ تھا۔دونوں نیک اور راستباز تھے۔ایک دن وہ خوشبو جلانے کے لئے ہیکل میں گیا تو فرشتہ ملا جس نے کہا کہ ’’زکریاہ مت ڈر کہ تیری دعا سنی گئی اور تیری جورو الیسبات تیرے لئے ایک بیٹا جنے گی تو اس کا نام یوحنا رکھنا اور تجھے خوشی و خورمی ہو گی اور بہتیرے اس کی پیدائش سے خوش ہوں گے۔کیونکہ وہ خدا وند کے حضور بزرگ ہو گا اور نہ مے اور نہ کوئی نشہ پئے گا اور اپنی ماں کے پیٹ ہی سے روح القدس سے بھر جائے گا اور بنی اسرائیل میں سے بہتوں کو ان کے خداوند خدا کی طرف پھیرے گا اور وہ اس کے آگے الیاس کی طبیعت اور قدرت کے ساتھ چلے گا۔‘‘ (لوقا باب ۱آیت ۱۳تا۱۷)