تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 157

بے مثل ہے وہ بے مثل کاتب بھی ہے یا بے مثل رنگساز بھی ہے یا بے مثل تفسیر لکھنے والا بھی ہے۔جو شخص بے مثل کہلاتا ہے وہ اپنی کسی خاص خوبی میں بے مثل کہلاتا ہے۔یہ مراد نہیں ہوتی کہ سارے جہان کی خوبیاں اور کمالات اس میں پائے جاتے ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ یحییٰ کس بات میں بات میں بے مثل تھے۔اس نقطہ نگاہ سے جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یحییٰ وہ پہلے نبی ہیں جن کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ وہ الیاس کا نام پا کر آئے ہیں گویا ارہاص والے نبیوں میں سے یہ پہلے نبی تھے۔جو الیاس کا نام پاکر اس کی خو بو پر آئے۔اس سے پہلے پرانے نبیوں میں کوئی ایسا نبی نہیں مل سکتا جو کسی دوسرے نبی کے لئے ارہاص کے طور پر آیا ہو۔لیکن یحییٰ کے بعد حضرت مسیح ؑ آگئےجو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ارہاص تھے۔اور پھر حضرت سید احمد صاحب بریلوی آ گئے جوحضرت مسیح موعودؑ کے لئے ارہاص تھے۔پس لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا میں یہی خبر دی گئی تھی کہ ہم نے اس سے پہلے کسی اور کو اس کا مثل نہیں بنایا۔یعنی یحییٰ وہ پہلے شخص ہیں جو کسی کے مثیل ہو کر آئے ہیں چنانچہ دیکھ لو اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے ہیں تو ہمیں بار بار یحییٰ کا نام لینا پڑتا ہے۔کیونکہ پیشگوئیوں میں بتایا گیا تھا کہ مسیح آسمان سے نازل ہو گا۔جب مخالف ہم سے پوچھتے ہیں کہ بتائو وہ مسیح کہاں ہے؟ تو ہم کہتے ہیں مسیح ناصری کے وقت میں بھی لوگوں نے یہی سوال کیا تھا۔جب حضرت مسیح ؑنے دعویٰ کیا تو لوگوں نے پوچھا کہ ملا کی نبی کتاب میں ایلیاہ کے دوبارہ نزول کی خبر دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ وہ مسیح سے پہلے آئے گا وہ ایلیاہ کہاں ہے۔حضرت مسیح ؑ نے جواب دیا کہ یوحنا ہی ایلیاہ ہے(متی باب ۱ ۱ ٓیت ۱۴)۔اگر چاہو تو قبول کر لو۔پس جس طرح وہاں ایلیاہ کے نام پر یوحنا آیا اسی طرح یہاں مسیح ناصری ؑ کے نام پر خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے مسیح کو بھیج دیا۔اس طرح اب ہماری جماعت بھی مجبور ہے کہ وہ یحییٰ کے نام کو زندہ رکھے کیونکہ مثلیّت کا نکتہ انہی کے ذریعہ سے حل ہوا ہے۔غرض لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا سے یہ مراد ہے کہ ہم نے اس کا مثل پہلے نہیںبنایا اور اسے ایسی خصوصیت عطا فرمائی ہے جو پہلے کسی کو نہیں دی گئی۔چنانچہ موٹی مثال موجود ہے کوئی بتا دے کہ یوحنا سے پہلے کسی اور نبی کو مثیلِ ایلیاہ قرار دیاگیا ہو۔اگر عیسائی اور یہودی بھی مانتے ہیں کہ اس پہلو کے لحاظ سے اس کاکوئی مثل پہلے نہیں گذرا تو اس کا بے مثل ہونا ثابت ہو گیا۔بے مثل ہونے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ ساری دنیا کی خصوصیات کسی میں پائی جائیں۔کسی ایک بات میں بھی اگر کوئی بے مثل ہو تو اسے بے مثل کہا جا سکتا ہے۔جیسے ایک بات میں نے بھی بتا دی ہے۔اسی طرح اور بھی بعض خوبیاں ہو سکتی ہیں جو ان کو بے مثل بنانے والی ہوں۔انجیل میں بھی اس کے مطابق ہی