تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 151

سبحان اللہ کیسی لطیف دعا ہے کہ اندر میرا خراب ہو چکا ہے باہر میرا خراب ہو چکا ہے بیوی میری بیکار ہو چکی ہے رشتہ دار میرے خراب ہو چکے ہیں اور میں مانگتا یہ ہوں کہ تو مجھے بیٹا دے مگر اس بڑھاپے میں بھی میںناقص بیٹا نہیں مانگتا بلکہ میں یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے وہ بیٹا دے جو میرے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو اور اپنے باپ دادوں کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو اور پھر وہ میرا ہی پسندیدہ نہ ہو بلکہ تیرا بھی پسندیدہ اور محبوب ہو۔یہ دعا ہے جو حضرت زکریا علیہ السلام نے کی۔بے شک وہ پیشگوئیوں کی بنا پر جانتے تھے کہ نبوت کا نور اب بنی اسرائیل سے چھینا جانے والا ہے۔مگر پھر بھی انسان خیال کرتا ہے کہ شاید کوئی ایسا ذریعہ نکل آئے جس سے قوم بچ جائے اور وہ ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں نہ گرے۔پس حضرت زکریا علیہ السلام نے یحییٰ کے لئے اس لئے دعا کی وہ جانتے تھے کہ اب ایک ایسا شخص آنے والا ہے جس پر بنی اسرائیل کی نبوت ختم ہو جائے گی۔سو انہوں نے چاہا کہ کوئی ایسی صورت نکل آئے جس کے نتیجہ میں آنے والے موعود کو قوم مان لے اور اس کی امداد اور نصرت کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے اور خدا تعالیٰ کا نور کچھ دنوں کے لئے اور ہماری قوم میں باقی رہ جائے۔چنانچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا انجیل سے جو حال معلوم ہوتا ہے اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی آمد کی بڑی غرض یہی تھی کہ قوم کو حضرت مسیح ؑ پر ایمان لانے کے لئے تیار کریں۔انجیل میں لکھا ہے حضرت یحییٰ ؑ نے لوگوں سے کہا ’’ میں تو تم کو توبہ کے لئے پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن جو میرے بعد آتا ہے (یعنی مسیح ) وہ مجھ سے زور آور ہے میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں وہ تم کو روح القدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا۔‘‘ ( متی باب ۳ آیت ۱۱) بہرحال حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سارا زور اس بات پرمعلوم ہوتا ہے کہ وہ خود مقصود نہیں بلکہ مسیح کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اور حضرت زکریا علیہ السلام نے جو دعا مانگی وہ بھی اسی لئے مانگی تھی کہ ان کا بیٹا آنے والے اسرائیلی موعود کے لئے رستہ صاف کرے شاید وہ اپنی کوشش اور جدوجہد سے بنی اسرائیل کو آنے والے مسیح کی طرف متوجہ کر سکے اور اس طرح قوم پر جو عذاب آنے والا ہے وہ ٹل جائے یہ چیز ہے جو حضرت زکریا علیہ السلام کے سامنے تھی۔اب اس پس منظر کے سامنے ساری عیسائیت کو رکھ لو اس کی کوئی حقیقت بھی باقی نہیں رہتی عیسائیت اپنے آپ کو بنیاد قرار دیتی ہے اور یہ پس منظر بتاتا ہے کہ وہ عمارت کی آخری اینٹ تھی کسی نئے مذہب اور نئے اصول کی تعلیم اس کا مقصد نہیں تھا بلکہ ایک لمبے عرصہ سے جو نبوت اور وحی و الہام کا سلسلہ بنی اسرائیل میں جاری تھا اس کے خاتمہ کا اس ذریعہ سے اعلان کیا گیا تھا۔گویا مسیحیت کوئی بنیادی چیز نہیں بلکہ خاتمہ کی اینٹ ہے حضرت زکریا کی