تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 149

مقربین میں سے ہو۔تفسیر۔اس دعا میں حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنی ضرورت حقہ کا اظہار کیا ہے وہ کوئی دولت مند نہیں تھے کہ انہیں اپنے بعد اپنی دولت کا فکر ہوتا وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی تھے پس ان کا خوف دولت کے جانے کا نہیں تھا بلکہ تعلیم کے مفقود ہونے کا تھا۔حضرت زکریا علیہ السلام پر وہت فیملی میں سے تھے اور ان کے رشتہ دار بھی پروہت تھے جو بیت المقدس اور دوسری عبادت گاہوں کے ساتھ تعلق رکھتے تھے(لوقا باب ۱ ٓیت ۵)۔حضرت زکریا علیہ السلام ان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ الہٰی ان میں ایسی دنیا داری آچکی ہے کہ ان کا کوئی قدم یہودیت اور مذہب کو بچانے کے لئے نہیں اٹھتا۔معلوم ہوتا ہے مسلمان پیروں کی طرح یہود میں بھی بزرگی وراثت بن گئی تھی اور گدیاں قائم ہو گئی تھیں جیسے مسلمانوں میں پیر مر جائے تو اس کے بیٹے کو پیر بنا لیا جاتا ہے چاہے وہ کیسا ہی بے دین ہو۔اسی طرح وہاں بیٹا موجود ہوتا تو بیٹا گدی سنبھال لیتا۔بیٹا نہ ہوتا تو چچا کا بیٹا گدی پر بیٹھ جاتا۔گویا ان کی حالت مسلمان پیروں جیسی ہو گئی تھی۔جو کہلاتے تو پیر ہیں مگر عملی لحاظ سے و ہ دین سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک سید پیر صاحب کا لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ وہ ایک دفعہ گھوڑے پر سوار ہو کر ہرن کے شکار کے لئے گئے۔شکار کرنا منع نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گو خود شکار نہیں کیا مگر حدیثوں سے ثابت ہے کہ آپ شکار کروایا کرتے تھے چنانچہ ایک غزوہ میں آپ نے سعد بن ابی وقاص کو بلایا اور فرمایا کہ دیکھو وہ ہر ن جا رہا ہے اسے تیر مارو۔جب وہ تیر مارنے لگے تو آپ نے پیار سے اپنی ٹھوڑی ان کے کندھے پر رکھ دی اور فرمایا اے خدا اس کا نشانہ بے خطا کر دے۔تو شکار بری چیز نہیں۔اس میں جو لطیفہ ہے وہ آگے آتا ہے بہرحال پیر صاحب نے ہرن کے پیچھے اپنا گھوڑا ڈال دیا۔ہرن بہت مضبوط تھا اس نے بھاگنا شروع کیا اور کئی میل تک بھاگتا چلا گیا۔اس زمانہ میں بندوقیں نہیں تھیں۔تیر یا نیزہ سے شکار کرتے تھے۔پیر صاحب بھی ہرن کے پیچھے اپنا گھوڑا دوڑاتے چلے گئے اور آخر اسے زخمی کر کے گرا لیا۔جب وہ نیچے اترے اور ہرن کو ذبح کرنے لگے تو بجائے اس کے کہ وہ تکبیر کہہ کر اسے ذبح کرتے انہیں اتنا غصہ چڑھا ہوا تھا کہ چھری پھیرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ ’’ ارے سؤر تو نے تو میرا گھوڑا ہی مار دیا ہے ارے سؤ ر تو نے تو میرا گھوڑا ہی مار دیا ہے‘‘گویا غصہ یہ تھا کہ وہ بھا گا کیوں۔حالانکہ انسان ہو یا جانور جسے بھی اپنی جان کا خوف ہوگا بھاگے گا۔غرض یہودیوں میں بھی مسلمانوں کی طرح یہ رواج تھا کہ جب خاندان میں ایک دفعہ کوئی بزرگ ہو جاتا تو اس کی اولاد اس کی گدی سنبھال لیتی تھی خواہ وہ کیسی ہی نالائق ہوتی۔حضرت زکریا علیہ السلام اس کا ذکر کرتے ہوئے