تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 148

وَ اِنِّيْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَآءِيْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا اور میں یقیناً اپنے رشتہ داروں سے اپنے (مرنے کے )بعد (کے سلوک) سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔فَهَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّاۙ۰۰۶يَّرِثُنِيْ وَ يَرِثُ مِنْ اٰلِ پس تو اپنے پاس سے ایک دوست (یعنی بیٹا) عطا فرما۔جو میرابھی وارث ہو اور آل یعقوب (سے جو دین و تقویٰ ہم يَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا۰۰۷ کو ورثہ میں ملا ہے اس) کا بھی وارث ہو اور اے میرے رب اس کو (اپنا )پسندیدہ (وجود )بنائیو۔حل لغات۔موالی مَوَالِی مَوْلٰی کی جمع ہے اور اس کے بہت سے معنے ہیں چنانچہ مَوْلیٰ کے ایک معنے دوست کے بھی ہوتے ہیں اور مَوْلٰی کے معنے اِبْنُ الْعَمِّ یعنی چچا زاد بھائی کے بھی ہیں جنہیں پنجابی میں ’’ شریکے والے‘‘ کہتے ہیں (اقرب) اس جگہ موالی سے مراد شریک ہی ہیں اور مطلب یہ ہے کہ میں اپنے شریکوں سے ڈرتا ہوں کہ وہ نہ معلوم میرے بعد کیسا معاملہ کریںگے۔عاقر عَاقِرٌ اس مرد یا عورت کو کہتے ہیں جس کے ہاں کوئی اولاد نہ ہو۔اصل میں عَقَرَ کے معنے زخمی کر دینے کے ہیں۔چنانچہ عَقَرَ النَّخْلَۃَ کے معنے ہوتے ہیں۔قَطَعَ رَاْسَھَا کُلَّہٗ مَعَ الْجُمَّارِ فَیَبَسَتْ یعنی اس نے کھجور کے درخت کا اوپر کا حصہ اس قدر کاٹ دیا کہ وہ سوکھ گیا اور اس میں پھل لگنا بند ہو گیا۔(اقرب) جس مرد یا عورت کی اولاد نہ ہو چونکہ وہ بھی اپنے خاندان کو زخمی کر دیتا اور اسے مار دیتا ہے اس لئے بے نسلی کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے اصل معنے کاٹ دینے اور زخمی کر دینے کے ہی ہیں۔عقر کا لفظ عورت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے او رمرد کے لئے بھی۔الولی۔اَلْوَلِیُّ کے معنے ہیں المُحِبُّ وَ الصَّدِّیْقُ محب اور دوست نیز اس کے معنے ہیں النَّصِیْرُ۔مددگار۔وَقَالَ ابْنُ فَارِسٍ وَ کُلُّ مَنْ وَلِیَ أَمْرَ اَحَدٍفَھُوَ وَلِیُّہ جو شخص کسی کے امور کو سنبھالنے والا ہو وہ اس کا ولی کہلاتا ہے۔نیز ولی کے معنے حَافِظُ النَّسَبِ کے بھی ہیں یعنی نسب کا محافظ (اقرب) مفردات میںہے فَھَبْ لِی مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا اَیْ اِبْنًایَکُوْنُ مِنْ اُوْلِیَائِکَ یعنی ایسا بیٹا عطا کر جو تیرے