تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 147
میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور میرا ضعف اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب مجھ میں تاب مقاومت باقی نہیں رہی۔وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَيْبًا۔اور میرا سر بڑھاپے کی وجہ سے شعلے مارنے لگ گیا ہے۔بال جب سفید ہو تے ہیں تو یکدم سفید نہیں ہوتے بلکہ پہلے بالوں کا رنگ اڑتا ہے اور وہ سیاہی سے زرد ی مائل ہو جاتے ہیں پھر ان میں سفیدی آتی ہے مگر وہ اتنی تیز اور نمایاں نہیں ہوتی۔صرف ہلکی ہلکی سفیدی ہوتی ہے۔لیکن جب بڑھاپا غالب آ جائے تو سر کے بال بہت زیادہ سفید ہو جاتے ہیں۔اسی کیفیت کا ان الفاظ میں اظہار کیا گیا ہے کہ میرا سر تو اب بڑھاپے کی وجہ سے شعلے مارنے لگ گیا ہے۔وَ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا۔اور اے میرے رب میں تیری دعا کے ساتھ کبھی شقی نہیں ہوا۔اس کے ایک معنے یہ ہیں بِدُعَا ئِیْ اِیَّاکَ یعنی تجھے پکارنے کی وجہ سے یا ان دعائوں کی وجہ سے جو میں تجھ سے مانگا کرتا ہوں میں کبھی شقی نہیں ہوا۔دوسرے معنے حضرت زکریا کے لحاظ سے ایک اور بھی ہوسکتے ہیں اور وہ یہ کہ حضرت زکریا چونکہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے اس لئے بِدُعَآىِٕكَ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ بِدُعَآىِٕكَ اِیَّایَ یعنی اے خدا جب تو نے مجھے پکارا اور مجھے اپنا نبی بنایا تو تیرا مقرب اور ہمکلام ہونے کی وجہ سے میں کسی بات میں بھی شقی نہیں ہوا۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ مجھے اپنے کسی مقصد میں ناکامی ہوئی ہو اور شقاوت میرے حصہ میں آئی ہو۔شقاوت سعادت کی ضد ہے اور سعادت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ایسی مدد انسان کے شامل حال ہونا جس سے اسے خیر حاصل ہو جائے اور شقاوت کے معنے ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کی مدد کا میسر نہ آنا جس کی وجہ سے اسے مخصوص خیر حاصل نہ ہو۔ان معنوں کے لحاظ سے اس آیت کے دونوں مطلب لئے جا سکتے ہیں۔یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ تیرے حضور دعا کرنے کی وجہ سے مجھے کبھی ناکامی نہیں ہوئی اور یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ اے میرے رب چونکہ تو نے مجھے اپنے لئے مخصوص کر لیا ہے اس لئے تیرے مخصوص کر لینے کی وجہ سے اور تیرے انعامات کی وجہ سے میں نے یہ برکت پائی ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہو اکہ مشکلات میں مجھے ناکامی ہوئی ہو بلکہ ہمیشہ مجھے کامیابی ہوئی ہے اور میں نے اپنے مقصد کو حاصل کیا ہے۔