تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 11
عیسائیت کا ذکر سورۂ مائدہ میں ہے اور یہ سورۃ بھی سورۃ نساء کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور اکثر حصہ اس کا پانچویں اور چھٹے سال ہجری میں نازل ہوا ہے بلکہ اس کی کچھ آیتیں رسول کریم صلی ا للہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب بھی نازل ہوئیں۔پس قبل از ہجرت کی سورتوں میں سے جس سورۃ میں عیسائیت کو براہ راست بیان کیا گیا ہے اور کھلے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وہ سورۂ مریم ہے اور جیسا کہ قیاس کیا جا سکتا ہے یہ سورۃ چوتھے سال نبوت کے آخر یا پانچویں سال نبوت کے شروع میں نازل ہوئی ہے تبھی صحابہؓ نے اس کو ہجرت حبشہ سے پہلے یاد کر لیا اور حبش کے بادشاہ کے سامنے اسے پڑھ کر سنایا۔اس سورۃ کا یہ وقت نزول صاف طور پر بتا تا ہے کہ اس سور ۃ میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ اب عیسائیت کے ساتھ بھی تعلقات کی بنیاد رکھی جانے والی ہے اورآنے والی حبشہ کی ہجرت کی طرف اس میں واضح طور پر اشارہ کیا گیا تھا جس سے پتہ لگتا ہے کہ قرآن کریم کا نزول ایک عالم الغیب ہستی کی طرف سے ہوا ہے جو واقعات اور حالات مسلمانوں کو پیش آنے والے ہوتے تھے۔ان کو قریب زمانہ میںبیان کر دیا جاتا تھا تاکہ وقت پر اللہ تعالیٰ کا کلام پورا ہو کر مومنوں کے لئے ان کے ایمانوں کی زیادتی کا موجب ثابت ہو میں سمجھتا ہوں ریورنڈ وہیری اور میور کے دل پر بھی اسی بات کا اثر ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے باوجود تاریخی اور حدیثی شہادتوں کے اس سورۃ کو بعد از ہجرت حبشہ یا قریب ہجرت مدینہ کے رکھنے کی کوشش کی ہے۔مگر ان کے دل کی یہ دھڑکن بتاتی ہے کہ اس سورۃ کے نزول کا وقت ایک ایسا بیّن اشارہ تھا کہ اس کے سمجھنے سے ریورنڈ وہیری اور میور بھی نہیں بچ سکے اور انہیں اس کے نزول کا وقت بدلنے کی ناکام کوشش کرنی پڑی۔آخری تاریخی شہادت کی موجودگی میں وہ کیا بات تھی جس سے مجبور ہو کر ان کو اس کا وقت نزول بعد میں ثابت کرنا پڑا۔صرف یہی کہ اگر اس کا وقت نزول وہی تھا جو تاریخ بتاتی ہے تو یہ اسلام کی سچائی کا ایک بہت بڑا ثبوت تھا۔یہاں کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ ہم یہ کس طرح مان لیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل کی ہے کیوں نہ یہ سمجھ لیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بخود سوچ لیا ہو گاکہ مکہ میں مخالفت زیادہ ہے اب لازماً ہمیں ہجرت کرنی پڑے گی اور یہ بھی سوچ لیا ہوگا کہ حبشہ کی طرف ہجرت کریں اس لئے انہوں نے عیسائیت کا قرآن کریم میں ذکر کر دیا اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک عقلی طور پر یہ ممکن ہے لیکن ساتھ ہی عقل اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ اگر عیسائیت کا ذکر کیا جاتا تو اس کی تعریف کی جاتی نہ کہ تردید۔مگر اس سورۃ میں تو عیسائیوں کی شروع سے لے کر آ خر تک تردید کی گئی ہے۔دوسرے محمد رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم یہ تو سوچ سکتے تھے کہ وہ اپنے متبعین کوحبشہ بھجوا دیں گے مگر انہیں یہ کس نے بتا دیا کہ وہ ایک لمبے عرصہ تک وہاں رہیں گے ان کے عیسائیوں سے مباحثات ہوںگے اور اس