تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 141

نہیں۔مگر اس مشکل کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بالکل حل کر دیتی ہے۔آپ فرماتے ہیں اِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّةِعَلَی رَأْسِ کُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ یُجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا (ابو داؤد جلد۲ کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قرن المائة) یعنی اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر صدی کے سر پر احیاء دین کے لئے ایک مجدد مبعوث فرمایا کرے گا۔اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ(النور:۵۶) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور عمل صالح کرنے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں بھی زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے خلفاء یعنی مجددین کو پہلے زمانہ کے اسرائیلی خلفاء کا مثیل قرار دیا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ (مکتوبات امام ربانی دفتر اول حصہ چہارم صفحہ ۳۳ مکتوب نمبر۲۳۴ ونمبر۲۴۹)یعنی میری امت کے علماء روحانی یعنی مجددین انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہیںپس ممکن ہے کہ ایسے نبی جو کسی دوسرے نبی کے کام کی تکمیل کے لئے آتے ہوں ان کے لئے بائبل میں کاہن کا لفظ استعمال ہوتا ہو۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی کفاریہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ یہ شخص کاہن ہے(طور:۳۰) معلوم ہوتا ہے بنی اسرائیل ایسے رنگ میں نبیوں اور کاہنوں کا ذکر کیا کرتے تھےجس سے وہ دونوں ایک وجود معلوم ہوتے تھے۔لیکن چونکہ مکہ والے کاہن کو برا سمجھتے تھے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہونے کا دعویٰ کرتے تو وہ سمجھتے کہ یہ کاہن ہے لیکن اس کے علاوہ جب ہم بائبل پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ یہود کے حالات دیکھ کر بہت چھوٹی چھوٹی جگہوں میں اپنے نبی بھیج دیا کرتا تھا یہاں تک کہ بائبل سے پتہ لگتا ہے کہ بعض دفعہ سینکڑوں انبیاء ایک ہی زمانہ میں ہوئے ہیں (نمبر۱ سلاطین باب۲۲آیت ۶) بلکہ بعض بڑے بڑے پایہ کے انبیاء بھی ایک ہی زمانہ میں بھیجے گئے ہیں۔چنانچہ حزقی ایل(۵۹۵ قبل مسیح)۔دانی ایل (۶۰۷ قبل مسیح) اور یرمیاہ(۶۲۹ قبل مسیح) یہ سب ایک ہی وقت میںآگے پیچھے ہوئے بلکہ کچھ حصہ ان کی زندگیوں کا متوازی بھی گزرا ہے۔پس اگر بائبل نے زکریا کو نبی نہیں کہا تو یہ کوئی قابل تعجب بات نہیں۔جب بائبل کہتی ہے کہ بعض دفعہ ایک ایک زمانہ میں چار چار سو نبی آئے (نمبر۱ سلاطین باب ۲۲ آیت ۶) اور وہ نام ایک کا بھی نہیں لیتی۔تو معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میں اتنی کثرت سے نبی آیا کرتے تھے کہ بائبل نے ان کے ناموں کی طرف توجہ ہی نہیں کی۔قرآن کریم نے اپنی ضرورت کے مطابق جن نبیوں کا نام ضروری سمجھا لے لیا اور بائبل نے جن نبیوں کی ضرورت سمجھی ان کا نام لے لیا۔باقیوں کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کون تھے اور ان کے کیا