تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 132
ہتھیلیوں میں بھی گاڑ دیتے تھے لیکن جن لوگوں کو علم التشریح کی واقفیت ہے وہ جانتے ہیں کہ یہاں بھی کیلوں کاگاڑنا ہڈیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔بہرحال صلیب دیتے وقت کیل جسم کی ہڈیوں میں نہیں گاڑے جاتے تھے بلکہ بازوئوں اور پنڈلیوں کے نرم نرم گوشت میں گاڑے جاتے تھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جسم کے گوشت میں کیل گاڑ دینا یہ بھی انسان کو خطرناک تکلیف پہنچاتا ہے۔بلکہ کیل تو الگ رہے معمولی ٹیکہ سے بھی بعض لوگ چیخیں مارنے لگ جاتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اس صلیب سے انسان کی موت کئی دنوں کے بعد واقع ہوتی تھی اور وہ سسک سسک کر اپنی جان دیتا تھا فوری طور پر موت واقع نہیں ہوتی تھی۔اس میں صرف ہیبت کا پہلو ہے جو دماغی لحاظ سے سخت اذیت پہنچاتا ہے یعنی انسان یہ دیکھتا ہے کہ اب کیل آ گئے ہیں اب ہتھوڑا آ گیا ہے۔اب کیل گاڑنے والا آ گیا ہے۔اب کیل گاڑنے کے لئے اٹھا ہے۔اب کیل جسم پر رکھا گیا ہے۔اب کیل پر ہتھوڑا پڑنے والا ہے۔یہ باتیں ایسی ہیں جو اس کے دماغ کو خوف زدہ کردیتی ہیں اور وہ اس کی ہیبت سے شدید متاثر ہوتا ہے ورنہ محض گوشت کٹ جانے سے ایسی تکلیف نہیں ہوتی جسے برداشت نہ کیا جا سکتا ہو۔لڑائیوں میں ہزاروں مرتبہ تلوار لگتی ہے اور گوشت کٹ کر علیحدہ ہو جاتا ہے مگر چونکہ وہ تلوار یکدم آ پڑتی ہے اس لئے اس کی ہیبت طاری نہیں ہوتی۔لیکن کیل کی ہیبت طاری ہو جاتی ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ اب نہ معلوم کیا ہونے والا ہے۔لیکن تلوار لگ کر اگر گوشت کٹ جائے تو بعض دفعہ اس کی اتنی تکلیف بھی نہیں ہوتی جتنی ڈاکٹر کی سوئی سے انسان محسوس کرتا ہے۔کیونکہ اس کا پتہ اسی وقت لگتا ہے جب گوشت کٹ چکا ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات ایسی حالت میں جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہڈی سلامت ہے تو بجائے گھبرانے کے بے اختیار الحمد للہ کہہ اٹھتا ہے۔لیکن جب ڈاکٹر ٹیکا لگانے کے لئے سرنج تیار کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ شاید ڈاکٹر مجھے ذبح کرنے لگا ہے اور اس پر ایک ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسیح کے ساتھ جو کچھ گزرا وہ دماغی لحاظ سے ایک نہایت ہی تکلیف دہ واقعہ تھا۔لیکن وہ حقیقی تکلیف جس سے انسان مر جاتا ہے وہ آپ کو نہیں ہوئی۔لیکن چونکہ آپ نازک طبیعت انسان تھے آپ نے اس تکلیف کو بھی شدت سے محسوس کیا اور بیہوش ہو گئے۔اس کے مقابلہ میں وہ چور جو آپ کے دائیں بائیں لٹکائے گئے تھے وہ ایک