تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 131

بارہ میں انجیل میںبہت سے اختلافات ہیں جن میں اس وقت پڑنے کی ضرورت نہیں۔بہرحال مسیح کو انہوں نے چھڑوانے نہیں دیا۔اتنے میںجب پیلا طوس اپنی ذاتی دلچسپی سے مسیح کو چھوڑنے کی کوشش کر رہا تھا عدالت میں ایک پیغامبر آیا اور اس نے کہا کہ مجھے آپ کی بیوی نے بھجوایا ہے جب پیلا طوس اس کی بات سننے کےلئے اٹھا تو اس نے کہا آپ کی بیوی نے مجھے یہ پیغام آپ تک پہنچانے کےلئے دیا ہے کہ آج میں ساری رات سوئی نہیں کیونکہ فرشتے مجھے بار بار آ کر کہتے تھے کہ یہ شخص بے گناہ ہے اسے سزا نہ دینا ورنہ مر جائو گے ( متی باب ۲۷ آیت ۱۹) پیلاطوس نے جب یہ بات سنی تو اس نے مزید کوشش شروع کر دی کہ کسی طرح یہودی مسیح کو رہا کر دینا مان لیں۔مگر انہوں نے نہ مانا بلکہ انہوں نے دھمکی دی کہ ہم روم میں بادشاہ کو لکھیں گے کہ ایک شخص جو حکومت کا باغی تھا اور بادشاہت کا دعویٰ کرتا تھا پیلا طوس نے اسے چھوڑ دیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ پیلا طوس بھی باغی ہے۔یہ سن کر پیلا طوس ڈر گیا اور اس نے پانی منگوا یا۔یہودیوں کو تمثیلی زبان میں گفتگو کرنے کا بہت شوق تھا۔اسی طریق کے مطابق اس نے پانی منگوایا اور سب کے سامنے اپنے ہاتھ دھو کر کہا کہ مجھ پر اس گناہ کی کوئی ذمہ واری نہیں میں اس انسان کے خون سے بری ہوں۔اگر گناہ ہوگا تو وہ تم پر اور تمہاری اولادوں پر ہوگا۔اس پر ان سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہاں ہاں اس کا خون ہم پر اور ہماری اولادوں کی گردن پر ہے ( متی باب ۲۷ آیت ۲۴و۲۵) تب پیلا طوس نے مسیح کو ان کے حوالے کر دیا کہ اسے لے جائو اور صلیب پر لٹکا دو۔جب وہ مسیح کو لے کر صلیب کے مقام پر پہنچے ہیں تو انجیل سے پتہ لگتا ہے کہ اس وقت چھٹا گھنٹہ آ گیا تھا۔اور چھٹے گھنٹے کے معنے اس زمانہ کے لحاظ سے تین اور چار بجے کے درمیان کے وقت کے ہیں۔اس دن دو اور مجرم بھی پیش تھے جن کو پھانسی پر لٹکایا جانا تھا۔اب یہ بات ظاہر ہے کہ ایک مجرم کے لٹکانے اور تین مجرموں کے لٹکانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ایک آدمی کو تھوڑے سے وقت میںلٹکایا جا سکتا ہے مگر تین آدمیوں کو لٹکانے سے لئے لازماً زیادہ وقت لگے گا۔پھر ایک اور بات بھی ہے جس کو عام طور پر نہ مسلمان سمجھتے ہیںاور نہ بوجہ اپنے مذہب کے ناواقف ہونے کے عیسائی سمجھتے ہیں۔اس زمانہ میں صلیب کے لئے ایک لکڑی گاڑی جاتی تھی۔جس کی شکل اس قسم کی ہواکرتی تھی۔جب کسی شخص کے متعلق یہ فیصلہ ہو جاتا تھا کہ اسے صلیب پر لٹکا دیا جائے تو وہ اس لکڑی کے ساتھ سیدھا کھڑا کر دیا جاتا اور اس کے بازئوں کو پھیلا کر دو ڈنڈوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا۔اس کے بعد مجرم کے بازوئوں اور ٹانگوں کے نرم گوشت میں کیل گاڑ دئیے جاتے اور وہ اسی طرح بھوکا پیاسا صلیب پر لٹکا لٹکا مر جاتا۔بعض حالات میں علاوہ ان کیلوں کے جو بازوئوں کے گوشت اور پنڈلیوں کے گوشت میں گاڑے جاتے تھے وہ ایک ایک کیل