تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 127
انہیں تبلیغ کروں اور انہیں پھر اپنے مذہب پر قائم کروں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نبیوں کو الہام سے یہ معلوم ہوچکا تھا کہ دوسری قوموں میں رہنے کی وجہ سے وہ اپنے مذہب کو بھول چکی ہیں اور موسوی شریعت پر ان کا عمل نہیں رہا۔اور خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ دوبارہ ان کو مذہب کی طرف لایا جائے’’ کھوئی ہوئی بھیڑوں‘‘ کے الفاظ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف ظاہری طور پر وہ غیر ملک میں چلی گئی تھیں بلکہ روحانی طور پر بھی غیر مذاہب کا اثر انہوں نے قبول کر لیا تھا پس وہ روحانی اور جسمانی دونوں لحاظ سے کھوئی ہوئی تھیں۔اسی وجہ سے جس طرح حضرت مسیح نے یہ کہا کہ یوناہ نبی کے نشان کے سوا اور کوئی نشان یہودیوں کو نہیں دکھایا جائے گا اور یہی میرا سب سے بڑا نشان ہو گا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میرا سب سے بڑا مشن یہی ہے کہ میں اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو پھر جمع کروں۔اسی طرح یوحنا میں حضرت مسیح ؑکا یہ قول درج ہے کہ ’’ میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں مجھے ان کوبھی لانا ضرور ہے اور وہ میری آواز سنیں گی۔پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی چرواہا ہوگا۔‘‘ (یوحنا باب ۱۰ آیت ۱۶) یہاں حضرت مسیح ؑ یہ واضح کرتے ہیں کہ وہ یہودی کسی اور ملک میں رہتے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ’’میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں‘‘ یعنی اس ملک کی نہیں بلکہ وہ کسی اور ملک میں رہتی ہیں اور میرے لئے یہ امر فیصل شدہ اور مقدر ہے کہ میں ان کو لائوں ان بھیڑوں نے تو میرا نکار کیا ہے لیکن وہ میری آواز سنیں گی اور مجھے مان لیں گی یوں تو نبی کا انکار لوگ کیا ہی کرتے ہیں حضرت مسیح کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ تو ضد کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں مگر وہ ضد کی وجہ سے انکار نہیں کریںگے بلکہ جلدی ہی مجھ پر ایمان لے آئیں گے۔’’ پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی چرواہا ہوگا‘‘ یہ الفاظ بھی بتاتے ہیں کہ اس وقت موسوی قوم کا ایک بڑا حصہ موسوی شریعت کو چھوڑ بیٹھا تھا اور اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ وہ حضرت مسیح ؑکے ذریعہ پھر ان کو موسوی مذہب کی طرف واپس لائے اور اس طرح سب کو ایک قوم بنا دے۔ان حوالجات سے ثابت ہے کہ گزشتہ نبیوں کے ذریعہ سے مسیحی مشن کی نسبت یہ خبر دی گئی تھی کہ (۱)وہ اسی طرح مشرقی ممالک کے یہود کو پیغام دے گا جس طرح فلسطین کے یہود کو دے گا۔(۲) یہ کہ مسیح کے نزدیک جہاں فلسطین کی بھیڑوں نے اس کو کم مانا ہے وہاں دوسری بھیڑیں اس کی آواز کو زیادہ سنیں گی اور اس پر جلد ایمان لائیں گی۔(۳)مسیح کا ان لوگوں تک جانا اور انہیں پیغام پہنچانا ضروری ہے۔