تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 126
واپس آنا مشکل تھا۔اور پھر چونکہ وہ ایک لمبا عرصہ بدھوں کے ساتھ رہے اور ان کی تہذیب سے متاثرہو گئے اس لئے وہ اپنی روایات اور اپنی تہذیب اور اپنے تمدن کو بھی بھول گئے۔اس وجہ سے ان کے واپس آنے کی کوئی صورت نہیں بنتی تھی۔ان لوگوں کے متعلق یہود کا یہ خیال تھا کہ یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مطابق مسیح ان گمشدہ بھیڑوں کو واپس لا کراپنی قوم سے ملا دے گا اور یسعیاہ نبی کی پیشگوئی جس سے یہود کو یہ امید تھی کہ ان کی گمشدہ بھیڑیں پھر اپنے بھائیوں سے آ ملیں گی وہی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام بھی اس بارہ میں کئی جگہ پر ذکر فرماتے ہیں۔ایک دفعہ انہوں نے اپنے شاگردوں کی جماعت کو تبلیغ کے لئے بھجوایا تو اس موقعہ پر انہوں نے اپنے شاگردوں کو جو نصیحتیں کیں ان میں سے ایک نصیحت یہ بھی تھی کہ ’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔‘‘ (متی باب ۱۰ آیت ۶) یہ نصیحت انہوں نے اسی لئے کی تاکہ وہ پیشگوئی پوری ہو جائے جو یسعیاہ نبی نے کی تھی کہ جو اسرائیلی کھوئے گئے ہیں وہ مسیح کے ذریعہ پھر اکٹھے ہو جائیں گے آپ کہتے ہیں غیر قوموں کی طرف توجہ نہ کرنا بلکہ صرف اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا اور انہیں تبلیغ کرنا۔اسی طرح متی باب ۱۵ آیت ۲۱تا ۲۸ میں لکھا ہے کہ ایک عورت کی لڑکی بیمار تھی معلوم ہوتا ہے اس زمانہ میں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا تھا کہ جن آدمی کو بیمار کر دیا کرتے ہیں اور اگر جن نکال دیا جائے تو آدمی اچھا ہو جاتا ہے اس نے سنا ہوا تھا کہ مسیح جن نکالتا ہے ایک دفعہ حضرت مسیح کہیں جا رہے تھے کہ اس نے آپ کو دیکھ لیا اور وہ آپ کے پیچھے پیچھے شور مچاتی اور آوازیں دیتی دوڑی کہ اے خدا کے مقدس مجھ پر رحم کر اور میری لڑکی کا جن نکال دے۔لیکن حضرت مسیح اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ غیر قوم کی تھی مگر وہ برابر شور مچاتی چلی جاتی تھی اور درخواست کرتی تھی کہ اس کی بیٹی کو بد روح سے بچایا جائے۔جب شاگردوں نے دیکھا کہ اس طرح ایک عورت پیچھے پیچھے شور مچاتی آ رہی ہے تو انہوں نے آپ کو توجہ دلائی کہ حضور یہ عورت میلوں میل سے بھاگی چلی آ رہی ہے اور شور مچا رہی ہے۔کہ میری بیٹی کی بد روح نکالی جائے۔اس پر حضرت مسیح نے کہا۔’’ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔‘‘ اس میں حضرت مسیح نے بتایا کہ میرا اصل مقصد یہ ہے کہ اسرائیل کے گھرانے کی وہ دس قومیں جو کھوئی گئی ہیں