تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 123

کا یہ حصہ آئے گا کہ وہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تبلیغ کر کے جو اس وقت نینوہ کے قریب اور ایران اور افغانستان اور کشمیر میںرہتی تھیں اپنے مذہب میں داخل کرے اور اس طرح اس مقصد میں کامیاب ہو جو اللہ تعالیٰ نے اس کے سپرد کیا تھا۔اگر ایسا ہو جائے تو یوناہ نبی سے مسیح کی مماثلت ثابت ہو جاتی ہے اور وہ معجزہ جس کے دکھانے کا انہوں نے وعدہ کیا تھا وہ دنیا پر ظاہر ہو جاتا ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو یوناہ نبی والا نشان پورا نہیں ہو سکتا۔بہرحال جس طرح یوناہ نبی نے مچھلی کے پیٹ میں سے نکلنے کے بعد اپنی قوم کو تبلیغ کی اور وہ اس تبلیغ میں کامیب ہوئے اسی طرح مسیح کے لئے بھی ضروری تھا کہ وہ قبر میں سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل کو تبلیغ کرتا اور انہیں ہدایت پر لاتا۔اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو یوناہ نبی کا نشان مکمل نہیں ہو سکتا۔اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے وہی نشان دکھایا ہے جو یوناہ نبی نے اپنی قوم کو دکھایا تھا۔نینوہ والوں نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہ شخص جو اپنے آپ کو ناقابل سمجھتے ہوئے یہاں سے بھا گ گیا تھا اور جس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے سے گریز کیا تھا وہ پھر ہم میں واپس آیا اور ہم اس پر ایمان لانے پر مجبور ہوئے۔لیکن مسیح واقعۂ صلیب کے بعد اگر غائب ہو گیا تھا تو یوناہ سے اس کی مشابہت کس طرح ہوئی اور نینوہ والوں کی طرح کونسا نشان تھا جو لوگوں نے دیکھا۔گویا وہ نشان جو یوناہ نبی کی طرح مسیح کے لئے دکھانا ضروری تھا اور جس کا ماحصل یہ تھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے بھی کام لے لیتا ہے جو اپنے آپ کو کام کے ناقابل سمجھتے ہیں وہ تو مسیح نے نہ دکھایا اور وہ حصہ جو یوناہ نبی نے لوگوں کو نہیں دکھایا تھا وہ مسیح نے دکھا دیا۔یوناہ مچھلی کے پیٹ میں گیا مگر نینوہ والوں نے یہ نشان نہیں دیکھا۔یوناہ مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا مگر نینوہ والوں نے یہ نشان نہیں دیکھا۔یوناہ مچھلی کے پیٹ میں سے زندہ نکلا مگر نینوہ والوں نے یہ نشان نہیں دیکھا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ جب یوناہ کو پھر نینوہ میں لایا تو انہوں نے لوگوں کو کام کر کے دکھایا کہ دیکھو خدا تعالیٰ سے کوئی شخص بھاگ نہیں سکتا۔میں بھاگا تھا مگر پھر مجھے پکڑ کر خدا تمہاری طرف واپس لایا۔یہ نشان تھا جو لوگوں نے دیکھا اور ہر شخص جو معمولی عقل و سمجھ سے کام لے کر بھی اس نشان پر غور کرے گا وہ بے اختیار یہ کہہ اُٹھے گا کہ سبحان اللہ یہ کتنا بڑا نشان ہے۔یوناہ اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغامبر بنے اور وہ ڈر کر کسی اور ملک کی طرف بھاگا مگر خدا اسے پکڑ کر پھر نینوہ والوں کے پاس لایا اور جب اس نے پیغام پہنچایا تو وہی نینوہ والے جن کے متعلق اس کا خیال تھا کہ وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اس پر ایمان لانے پرمجبور ہوئے اور انہوں نے یوناہ کے سامنے اپنا سر جھکا دیا۔وہ اس نشان پر جتنا بھی غور کرے گا اسے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان لانا پڑے گا اور وہ بے اختیار کہہ اٹھے گا کہ اللہ تعالیٰ کتنی بڑی طاقتوں کا مالک ہے۔وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رُتبہ بخشتا ہے لیکن اگر یوناہ لوگوں سے