تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 118

نہ ہوں اور تو خون ناحق کو ہماری گردن پر نہ ڈالے۔کیونکہ اے خداوند تو نے جو چاہا سو کیا اور انہوں نے یوناہ کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور سمندر کا تلاطم موقوف ہو گیا تب وہ خداوند سے بہت ڈر گئے اور انہوں نے اس کے حضور قربانی گزرانی اور نذریں مانیں لیکن خداوند نے ایک بڑی مچھلی مقرر کر رکھی تھی کہ یوناہ کو نگل جائے اور یوناہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔تب یوناہ نے مچھلی کے پیٹ میں خداوند اپنے خدا سے یہ دعا کی۔میں نے اپنی مصیبت میں خداوند سے دعا کی اور اس نے میری سنی۔میں نے پاتال کی تہ سے دہائی دی تو نے میری فریاد سنی۔تو نے مجھے گہرے سمندر کی تہ میںپھینک دیا او رسیلاب نے مجھے گھیر لیا۔تیری سب موجیں اور لہریںمجھ پر سے گزر گئیں اور میں سمجھا کہ تیرے حضور سے دور ہو گیا ہوں۔لیکن میںپھر تیری مقدس ہیکل کو دیکھوں گا سیلاب نے میری جان کا محاصرہ کیا سمندر میری چاروں طرف تھا۔بحری نبات میرے سر پرلپٹ گئی۔میں پہاڑوں کی تہ تک غرق ہو گیا۔زمین کے اڑ بنگے ہمیشہ کے لئے مجھ پر بند ہوگئے۔تو بھی اے خداوند میرے خدا تو نے میری جان پاتال سے بچائی جب میرا دل بیتاب ہوا تو میںنے خداوند کو یاد کیا اور میری دعا تیری مقدس ہیکل میں تیرے حضور پہنچی۔جو لوگ جھوٹے معبودوں کومانتے ہیں وہ شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں۔میں حمد کرتا ہوا تیرے حضور قربانی گذرانوں گا۔میں اپنی نذریں ادا کروں گا۔نجات خداوند کی طرف سے ہے اور خداوند نے مچھلی کو حکم دیا اور اس نے یوناہ کو خشکی پر اگل دیا اور خداوند کا کلام دوسری بار یوناہ پرنازل ہوا کہ اٹھ اس بڑے شہر نینوہ کو جا اور وہاں اس بات کی منادی کر جس کا میں تجھے حکم دیتا ہوں۔تب یوناہ خدا وند کے کلام کے مطابق اٹھ کر نینوہ کو گیا اور نینوہ بہت بڑا شہر تھا۔اس کی مسافت تین دن کی راہ تھی اور یوناہ شہر میں داخل ہوا اور ایک دن کی راہ چلا۔اس نے منادی کی اور کہا چالیس روز کے بعد نینوہ برباد کیا جائے گا تب نینوہ کے باشندوں نے خدا پر ایمان لا کر روزہ کی منادی کی اور ادنیٰ واعلیٰ سب نے ٹاٹ اوڑھا اور یہ خبر نینوہ کے بادشاہ کو پہنچی۔اور وہ اپنے تخت پر سے اٹھا اور بادشاہی لباس کو اتار ڈالا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا اور بادشاہ اور اس کے ارکان دولت کے فرمان سے نینوہ میں یہ اعلان کیا گیا۔اور اس بات کی منادی ہوئی کہ کوئی انسان یا حیوان گلہ یا رمہ کچھ نہ چکھے اور نہ کھائے نہ پئے۔لیکن انسان اور حیوان ٹاٹ سے ملبس ہوں اور خدا کے حضور گریہ وزاری کریں بلکہ ہرشخص اپنی بری روش اور اپنے ہاتھ کے ظلم سے باز آئے شاید خدا رحم کرے اور اپنا ارادہ