تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 8

پوشیدہ تھی۔جو قرآن کریم کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے جہاں عیسائیت کا کوئی زور نہیں تھا۔آپ کی مخالفت کرنے والے وہ لوگ تھے جن کا عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔سوائے اس کے کہ تین چار عیسائی غلام تھے مگر ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور پھر تین سال تک آپ پر وحی ہوتی رہتی ہے مگر اس میں عیسائیت کا کوئی تفصیلی ذکر نہیں ہوتا۔لیکن یکدم چوتھے سال کے آخر یا پانچویں سال کے شروع میں تفصیلی طور پر عیسائیت کو مقابل میں رکھ کر بحث شروع کر دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ عیسائیت کیوں پیدا ہوئی۔مسیح ؑ کے متعلق کیا کیا پیشگوئیاں تھیں اور اسلام کے مقابلہ میں عیسائیت کی کیا حیثیت ہے اور پھر اس کے فوراً بعد ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ رسول کریم صلی ا للہ علیہ وسلم اپنے ماننے والوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے جائو جہاں ایک عیسائی حکومت ہے یہ ساری باتیں بتاتی ہیں کہ اس کلام کا نازل کرنے والا ایک عالم الغیب خدا ہے جب تک اسلام اور عیسائیت کے ٹکرائو کی کوئی صورت نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ضرورت نہیں سمجھی کہ قبل از وقت عیسائیت کا کوئی ذکر کیا جائے۔لیکن جونہی وہ وقت قریب آ گیا جب مسلمانوں نے ایک عیسائی ملک میںجانا تھا تو مسلمانوں کو بیدار رکھنے اور ان کو ہوشیار کرنے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ اب عیسائیوں سے تمہارا مقابلہ ہو گا تمہیں ان کے مقابلہ میں کونسا پہلو اپنے سامنے رکھنا چاہیے یکدم ایک سورۃ نازل ہو جاتی ہے جس میں عیسائی عقائد اور عیسائی تعلیمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ مسیحیت کی کیا غرض ہے اور اس کا اصل مقصد کیا ہے۔اس میںصاف طور پر اس امر کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ اب تم کو مسیحیوں سے واسطہ پڑنے والا ہے۔اس لئے ان کے مذہب کے بارہ میں تم کو ہوشیار کیا جاتا ہے۔پس سورۂ مریم کے نزول میں قطعی اور یقینی طورپر ہجرت حبشہ کی پیشگوئی مخفی تھی اور قبل از وقت مسلمانوں کو بتا دیا گیا تھا کہ اب تم ایک ایسی جگہ جانے والے ہو جہاں عیسائیت سے تمہارا واسطہ پڑے گا۔اس لئے ان کے عقائد کے متعلق ہوشیار رہو۔یہ ایک غیر معمولی اشارہ تھا جس کو مسلمانوں نے تو نہیں سمجھا مگر عیسائیوں نے سمجھ لیا کیونکہ ریورنڈ وہیری اور سر میور کا سارا زور اس امر کے ثابت کرنے کے لئے صرف ہوتا ہے کہ اس سورۃ کو کسی اور سال کی نازل شدہ قرار دیں۔حالانکہ سورۂ مریم چوتھے سال میں نازل ہو یا آٹھویں سال میں عیسائیوں کا اس سے کیا تعلق ہو سکتا ہے اگر اس کا مضمون عیسائیت کوردّ کر دیتا ہے تو خواہ یہ چوتھے سال کے آخر میں نازل ہو یا دسویں سال میں عیسائیوں کے لئے برابر ہے مگر انہوں نے بڑا زور صرف کیا ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ سورۃ ہجرت حبشہ سے پہلے کی نہیں کیونکہ ان کا ذہن اس طرف چلا گیا ہے کہ اگر یہ ہجرت حبشہ سے پہلے کی نازل شدہ ثابت ہو جائے تو یہ اس امر کا ایک صریح اور واضح ثبوت ہوگا کہ اس میں ہجرت حبشہ کی