تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 115
میں جیسا کہ میں آگے چل کر بتائوں گا گڈریا والی مثال بھی شامل ہے۔کیونکہ مسیح واقعہ صلیب کے بعد اپنی گمشدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے لئے ایران اور افغانستان اور کشمیر میں گیا اور اس نے انہیں خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔اور پھر مسیح خود بھی کہتا ہے کہ ایک ہی نشان ہے جو اس زمانہ کے لوگوں کو دکھایا جائے گا اور وہ یوناہ نبی والا نشان ہے ایک ہی نشان کے معنے یہ ہیں کہ یہ ایک ہی اہم نشان ہے یا ایک ہی قابل اعتماد نشان ہے۔غرض ابتدائی زمانہ کا عیسائی بھی تسلیم کرتا ہے کہ عیسائیت کی حقیقی شان یوناہ نبی والے نشان سے ہی ظاہر ہوتی ہے اور مسیح بھی اس کو اپنا منفرد اور مہتم بالشان نشان قرار دیتا ہے۔لوقا میں بھی یہی ذکر آتا ہے اس میں لکھا ہے:۔’’ اس زمانہ کے لوگ برے ہیں وہ نشان طلب کرتے ہیں مگر یوناہ کے نشان سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔کیونکہ جس طرح یوناہ نینوہ کے لوگوں کے لئے نشان ٹھہرا اسی طرح ابن آدم بھی اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ٹھہرے گا۔‘‘ (لوقاباب ۱۱آیت۲۹۔۳۰) لوقا نے یہاں ایک زائد بات کہی ہے۔متی نے تو یہ کہہ کراپنی بات ختم کر دی تھی کہ ’’یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا کیونکہ جیسے یوناہ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا‘‘ یہاں متی نے اس بات پر زور نہیں دیا کہ جس طرح یوناہ نینوہ کے لوگوں کے لئے نشان ٹھہرا تھا اسی طرح ابن آدم بھی اس زمانہ کے لوگوں کے لئے نشان ٹھہرے گا۔متی نے صرف اتنا لکھا ہے کہ ’’نینوہ کے لوگ عدالت کے دن اس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کو مجرم ٹھہرائیں گے کیونکہ انہوں نے یوناہ کی منادی پر توبہ کر لی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو یوناہ سے بھی بڑا ہے‘‘ (متی باب ۱۲آیت۴۱) مگر لوقا اس بات پر زور دیتا ہے کہ جس طرح یوناہ نینوہ کے لوگوں کے لئے نشان ٹھہراتھا۔اسی طرح ابن آدم بھی اس زمانہ کے لوگوں کے لئے نشان ٹھہرے گا۔گویا اس نشان کے متعلق وہ خاص طور پر یہ بتاتا ہے کہ نینوہ کے لوگوں کے لئے جس رنگ میںیوناہ نشان ٹھہرا تھا اسی رنگ میں اس زمانہ کے لوگوں کے لئے مسیح نشان ٹھہرے گا۔ان حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل نشان جو زمانہ مسیح میںدکھایا جانے والا تھا وہ یوناہ نبی والا نشان تھا۔یہ نشان کیا تھا اس کے متعلق مسیح خود کہتا ہے کہ :۔’’ جیسے یوناہ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میںرہا ویسے ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔‘‘