تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 112
مسیحیت کو نازہے اور جو مسیحیت کے ابتدائی آثار میں نمایاں طو رپر نظر آتا ہے یوناہ نبی کا معجزہ ہے۔صلیب کے واقعہ کے بعد ایک لمبے عرصہ تک عیسائی کمزور رہے وہ کبھی کسی ملک میں بھاگ کر چلے جاتے تھے اور کبھی کسی ملک میں عام طور پر وہ چھپ کر رہتے تھے۔کیونکہ جب لوگوں کو ان کا پتہ لگتا۔تو وہ ان پر مختلف قسم کے مظالم کرتے۔ا بتدائی مظالم کے سوا جو فلسطین میں یہودیوں کی طرف سے ہوئے۔بعد میں یہ مظالم زیادہ تر مشرک قوموں خصوصاً رومیوں کی طرف سے ہوتے تھے۔ایک عیسائی یہ رٹ لگانے سے نہیں رہ سکتا تھا کہ مسیح اس دنیا کا بادشاہ ہے۔مگر ادھر بادشاہت کا لفظ اس کی زبان پر آتا اور ادھر رومیوں کو آگ لگ جاتی اور وہ فوراً مظالم شروع کر دیتے اس زمانہ میں یہودیت کا حملہ کمزور ہو چکا تھا بلکہ بعض جگہ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مسیحی چھپتے تو ان کے ساتھ یہودی بھی چھپ جاتے تھے۔چونکہ مذہب ملتا جلتا تھا اور یہودی ابھی موسوی شریعت سے اتنے دور نہیں ہوئے تھے جتنے آجکل ہیں بلکہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اس لئے جس طرح ہم بھی نمازیں پڑھتے ہیں اور غیر احمدی بھی نمازیں پڑھتے ہیں۔ہم بھی روزے رکھتے ہیں اور غیر احمدی بھی روزے رکھتے ہیں ہم بھی حج کرتے ہیں اور غیر احمدی بھی حج کرتے ہیں ہم بھی قرآن مانتے ہیں اور غیر احمدی بھی قرآن مانتے ہیں اور اگر کوئی شخص صرف ظاہری شکل دیکھے عقائد کے اختلاف پر نظر نہ ڈالے تو وہ یہی کہے گا کہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں کوئی فرق نہیں۔اسی طرح جو ایمان تورات پر مسیحیوں کو تھا ویسا ہی ایمان یہودیوں کو تھا۔جس طرح صدقہ و خیرات عیسائی کرتے تھے ویسے ہی صدقہ و خیرات یہودی کرتے تھے۔جس طرح تورات کی تعلیموں کو عیسائی قابل عمل سمجھتے تھے اسی طرح تورات کی تعلیموں کو یہودی قابل عمل سمجھتے تھے اور چونکہ تمام تعلیم میں دونوں مشترک نظر آتے تھے اس لئے جب رومی لوگ عیسائیت کے خلاف بھڑکے اور انہوں نے ظلم کرنے شروع کئے تو ساتھ ہی انہوں نے یہودیوں پر بھی ظلم کرنے شروع کر دئیے اور یہ خیال کیا کہ یہ بھی ان کے ساتھ ہی ہیں۔پس ابتدائے عیسائیت میں تو ظلم یہودیوں کی طرف سے ہوئے مگر پھر شکل بدل گئی اور جب رومی دکھ دیتے ہیں تو وہ عیسائیوں اور یہودیوں دونوں کو اکٹھا دکھ دیتے تھے۔یہ نہیں دیکھتے تھے کہ ان میں سے یہودی کون ہے اور عیسائی کون ہے۔چنانچہ جب عیسائی بھاگ کر کہیں چھپتے تھے تو یہودی بھی ان کے ساتھ ہی چھپ جاتے تھے اور روما میں جو آثار پائے جاتے ہیں ان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے مگر میں سمجھتا ہوں عیسائیوں نے یہ بڑی ہمت کی کہ باوجود اس کے کہ روم میں ان کی بڑی مخالفت تھی اور حکومت کی طرف سے ان پرشدید مظالم ہوتے تھے۔پھر بھی انہوں نے وہاں تبلیغ پر بڑا زور دیا۔چنانچہ روم میں ان کے بڑے بھاری مشنز قائم تھے وہاں ان کی تبلیغ کی وجہ سے لوگ مخالفت بھی کرتے ، ظلم بھی کرتے، جائدادیں بھی