تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 107

نے یہ سنا تو ان کے ہوش اڑ گئے اور کہا ملاں جی ہم تو یہ کفارہ دینے کی طاقت نہیں رکھتےاس نے کہا نہ دو گے تو سارے دوزخ میں جاؤ گے۔فقہ میں یہی لکھا ہے کہ اس گناہ کا کفارہ اسی طرح ادا ہو سکتا ہے۔انہوں نے پھر آپس میں مشورہ کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے ایک لڑکا بولا کہ ملاں جی کا اپنا بیٹا نور جمال بھی اس میں شامل تھا۔انہوں نے کہا سچ کہتے ہو؟ لڑکوں نے کہا بالکل سچ ہے وہ ہمارے ساتھ تھا آخر انہوں نے مشورہ کیا۔کہ اب پھر ملا جی سے پوچھنا چاہیے شاید مسئلہ کی کوئی شکل بدل جائے۔چنانچہ وہ پھر ملاں جی کے پاس آئے اور کہنے لگے ملاں جی آپ کا بیٹا نور جمال بھی اس میں شامل تھا یہ سن کر ملاں جی کو فکر ہوا کہ اب تو مجھے بھی کفارہ دینا پڑے گا کہنے لگا اچھا میں پھر کتابیں دیکھوں گا۔چنانچہ کتابیںدیکھ کر کہنے لگے لو میاں یہ بھی مسئلہ نکل آیا ہے کہ اگر اتنی توفیق نہ ہو تو پھر شہیتر کو زمین پر ڈال کر اس پر ایک ایک پھلکا رکھ دیا جائے اور وہ چندپھلکے صدقہ میں دے دئیے جائیں تو یہ تو میاں نور جمال والی بات ہو گئی کہ پانچ ارب ستر کروڑ کو اگر عذاب دیا جائے تو ابدی طور پر عذاب دیا جائے لیکن جب اپنے بیٹے کا سوال آیا تو کہہ دیا کہ ہم انصاف سے کام لے رہے ہیں ہم اسے ڈیڑھ دن دوزخ میں رکھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ساری دنیا کے گناہوں کا کفارہ ہو گیا۔اور ابھی تو دنیا جاری ہے پانچ سو یا ہزار سال تک بھی دنیا اور جاری رہی تو گو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب احمدیت کی وجہ سے عیسائیت دن بدن کم ہی ہو گی ترقی نہیں کر ے گی لیکن ہمارے بڑھتے بڑھتے بھی تین چار ارب کا اس تعداد میں اور اضافہ ہو جائے گا۔مگر اتنی بڑی تعداد کے گناہوں کے کفارہ کا جب سوال آیا تو کہہ دیا گیا کہ ہم نے اپنے بیٹے کو ڈیڑھ دن دوزخ میں رکھ کر سب سزا پوری کر لی ہے اور ہمارے عدل اور انصاف کا تقاضہ پورا ہو گیا ہے۔اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ پانچ ارب ستر کروڑ کو تو ابدی عذاب دینے کا فیصلہ کرنا اور یہ کہنا کہ وہ دوزخ میں سے کبھی نکل نہیںسکیں گے اور اپنے بیٹے کے متعلق یہ کہہ دینا کہ چونکہ وہ ڈیڑھ دن جہنم میںرہ آیا ہے اس لئے سب لوگوں کی سزا معاف ہو گئی ہے۔تم اس تجویز کو کسی کے سامنے رکھ کر دیکھ لو۔مسیح اور خدا کا نام نہ لو۔اتنا کہو کہ ایک شخص تھا جس کے ذمہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب قرض تھا لوگوں نے اس سے روپیہ کا تقاضا کیا مگر وہ ادا نہ کر سکا آخر معاملہ عدالت میں گیا اس نے درخواست کی کہ یہ قرض مجھے معاف کر دیا جائے مگر جج نے کہا کہ میں معاف نہیں کر سکتا کیونکہ معاف کرنا میرے عدل کے منافی ہے میں ایسی بے انصافی نہیں کر سکتا کہ تمہارے ذمہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ ہو اور تمہیں سزا نہ دی جائے۔مگر اس کے بعد اس نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا کہ اس ڈیڑھ لاکھ روپیہ کے بدلہ میں تم ڈیڑھ روپیہ دے دو اور جب اس نے ڈیڑھ روپیہ دے دیا تو اس نے کہا کہ اب سارا قرض معاف ہو گیا ہے۔کیا دنیا کا کوئی بھی عقل مند اس فیصلہ کو معقول قرار دے گا؟ ہر شخص کہے گا کہ قاضی صرف بے ایمان