تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 106
اوسط عیسائی آبادی دس کروڑ مان لیں کیونکہ پہلے وہ تھوڑے تھے پھر لاکھ دو لاکھ ہوئے۔پھر ستر اسی لاکھ ہوئے پھر کروڑوں کروڑ تک پہنچ گئے یہاں تک کہ ان کی ایک ایک زمانہ میںستر ستر اسی اسی کروڑ تک تعداد ہو گئی۔اس تمام تعداد کی اوسط اگر ہم صرف دس کروڑ رکھیں اور ایک صدی میں تین نسلیںفرض کریں تو اب تک ستاون عیسائی نسلیںدنیا میں گزر چکی ہیں۔ستاون کو دس کروڑ سے ضرب دیں تو پانچ ارب ستر کروڑ آدمی بن جاتا ہے اب پانچ ارب ستر کروڑ آدمی کی سزا کو ابدیت سے ضرب دے کر دیکھو تو کیا نتیجہ نکلتا ہے۔گویا اگر مسیح کفارہ نہ بنتا تو اس پانچ ارب ستر کروڑ نے ہمیشہ ہمیش کے لئے دوزخ میں رہنا تھا اور یہ زمانہ اتنا بڑا تھا جس کی تعیین ہند سوں میں ہو نہیں سکتی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کو صرف ڈیڑھ دن دوزخ میں رکھ کر پانچ ارب ستر کروڑ آدمی کے ابدی عذاب کا کفارہ قبول کر لیا۔کہا جاتا ہے کہ مسیح کو اس لئے صلیب پر لٹکایا گیا تھا۔تاکہ اللہ تعالیٰ کے عدل پر کوئی حرف نہ آئے۔مگر یہ کیا عدل ہے کہ پانچ ارب ستر کروڑ ضرب ابدیت کا عذاب ڈیڑھ دن میں پورا کر لیا گیا۔گویا اور لوگ دوزخ میں پڑتے تو انہیں ابد ا ل الآباد تک دوزخ میں رکھا جاتا لیکن اپنے بیٹے کا سوال آیا تو اسے ڈیڑھ دن دوزخ میں رکھ کر کہہ دیا کہ چلو سب کا کفارہ ہو گیا۔یہ تو ویسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک گائوں کے کچھ شرارتی لڑکے باہر کھیل رہے تھے کہ انہوں نے ایک مردہ گدھادیکھا۔انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ آئو ہم اسے پکاکر کھا لیں زندہ کیا اور مردہ کیا گوشت تو ہے ہی۔چنانچہ انہوں نے مل کر گدھا پکایا اور کھا لیا۔گائوں والے ایسی باتوں کو سخت برا سمجھتے ہیں انہیں پتہ لگا۔تو وہ بھاگے بھاگے اپنے ملاں کے پاس گئے اور اسے کہنے لگے کہ غضب ہو گیا۔آج لڑکوں نے مردہ گدھا پکا کر کھا لیا ہے ایسا نہ ہو کہ خد اتعالیٰ کا کوئی عذاب ہم پر نازل ہو جائے۔ملاں نے کہا یہ تو بڑے گناہ کی بات ہوئی ہے اب فوراً اس کا کفارہ ادا کرنا چاہیے ورنہ اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جائے گا۔وہ پہلے ہی گھبرائے ہوئے تھے ملاں نے انہیں اور ڈرا دیا۔اس پر انہوں نے کہا کہ ملاں جی اس مشکل کا آپ ہی کوئی حل نکالیں ایسا نہ ہو کہ ہم سب برباد ہو جائیں۔ملاں نے کہا اچھا میںکتابیںدیکھوں گا اور پھر بتائوں گا کہ اس کاکیا علاج ہے چنانچہ وہ سارا دن فقہ کی کتابیںدیکھتا رہا اور شام کو گائوں والوں سے کہنے لگا کہ لو بھئی مسئلہ نکل آیا ہے کتابوں میں لکھا ہے کہ اس گناہ کا کفارہ یہ ہے کہ ایک بڑا سا شہتیر کھڑا کر کے اس کے چاروں طرف روٹیوں کا ڈھیر لگانا شروع کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ ڈھیر شہتیر کے آخری سرے تک پہنچ جائے اور پھر وہ روٹیاں خدا تعالیٰ کے نام پر دے دی جائیں۔مطلب یہ تھا کہ روٹیاں مجھے دے دی جائیں کیونکہ خدا کے نام پر جو کچھ دیا جاتا ہے ملاں کو ہی دیا جاتا ہے۔اس نے سمجھا کہ چلو اس طرح کچھ دن مفت روٹیاں کھا لیں گے اور جو باقی رہیں گی وہ بیچ لیں گے گائوں چھوٹا سا تھا اور لوگ غریب تھے انہوں