تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 105

بھی باز نہ آئے تو سزا کے طور پر نبوت کا باقی حصہ بھی لے لیا جائے گا۔چنانچہ اب جو نبی آیا ہے یہ ماں کی طرف سے تو یہودی ہے مگر باپ کی طرف سے نہیں۔لیکن آئندہ ایک بالکل غیر اسرائیلی نبی آئے گا گو وہ ابراہیم کی نسل میں سے ہی ہو گا چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا جو بنو اسماعیل میں سے تھے اوربنی اسرائیل میں سے نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا۔پس ہمارا حضرت مسیح ؑ کو بن باپ ماننا قابل اعتراض نہیں۔ہمارے نزدیک اس میں بڑی حکمت ہے لیکن جو حکمت وہ بتاتے ہیںہم نے اسے رد کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ اس طرح حضرت مسیح بے گناہ نہیں بلکہ دوسروں سے بھی زیادہ گنہگار ثابت ہوتے ہیں اور کفارہ بالکل باطل چلا جاتا ہے۔مسئلہ کفارہ کے متعلق ایک اور قابل غور سوال یہ ہے کہ کیا مسیح کے صلیب پانے سے دنیا کا کفارہ ہو سکتا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مسیح ؑ کی صلیب کا واقعہ جس رنگ میں بائبل پیش کرتی ہے اگر ہم اسے تسلیم بھی کر لیں تب بھی یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو دیکھتے ہوئے ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ مسیح ؑنے واقعہ میں کوئی قربانی پیش کی تھی۔کیونکہ انجیل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسیح صرف ڈیڑھ دن کے قریب قبر میں رہا۔جمعہ کے دن دوپہر کے وقت مسیح کی صلیب کا واقعہ ہوا ہے اور اتوار کے دن صبح کے وقت وہ اٹھ بیٹھا (مرقس باب ۱۶) جمعہ کے بعد کی رات سے ہفتہ کی شام تک چوبیس گھنٹے ہوئے اور ہفتہ کی شام سے اتوار کی صبح تک بارہ گھنٹے ہوئے گویا انجیل کی رو سے مسیح صرف۳۶گھنٹے قبر میں رہا۔فرض کرو یہ عیسائی عقیدہ کہ مسیح ڈیڑھ دن تک دوزخ میں رہا درست ہو تو بھی سوال یہ ہے کہ مسیح کا ڈیڑھ دن قبر میں رہنا دنیا کے گناہوں کا کفارہ کس طرح ہو سکتا ہے؟عیسائی عقیدہ کے مطابق دوزخ ابدی ہے اور ہر انسان جو دوزخ میں ڈالا جائے گا ہمیشہ کے لئے ڈالا جائے گا۔لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کچھ مدت کے بعد خدا تعالیٰ دوزخیوں کو بھی معاف فرما دے گا اور انہیں جنت میں داخل کر دے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ (القارعۃ:۱۰) یعنی دوزخ رحم مادر کی طرح ہے جس طرح رحم میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد بچہ باہر آ جاتا ہے اسی طرح دوزخمی کچھ عرصہ تک دوزخ میں رہنے کے بعد اس میں سے نکل آئیں گے اور اللہ تعالیٰ انہیںجنت میںداخل کر دے گا لیکن عیسائی عقیدہ یہ ہے کہ دوزخ ابدی ہے اور جو بھی اس میں جائے گا وہ اس میں سے کبھی نہیں نکل سکے گا(متی باب ۲۵ آیت ۴۱) اب ساری دنیا جو مسیح پر ایمان رکھتی ہے وہ کروڑوں کروڑ کی ہے اسی زمانہ میں ساٹھ ستر کروڑ بلکہ اس سے بھی زیادہ عیسائی ہیں۔اگر یہ ستر کروڑ آدمی دوزخ میں جاتا اور اس میں ابد تک رہتا تو ستر کروڑ کو ابدیت سے ضرب دے کر دیکھ لو کہ کتنا وقت بن جاتا ہے اور یہ تو صرف اس زمانہ کے عیسائیوں کی تعداد ہے۔اگر مسیح سے لے کر اس وقت تک کے ان تمام لوگوں کا شمار کیا جائے جو مسیح پر ایمان لائے تھے اور ایک انسانی نسل کی اوسط عمر ہم تیس سال فرض کر لیں اور دنیا کی