تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 7

مستشرقین نے یہ خیال کر کے کہ انہوں نے نَدِیًّا اور رَضِیًّا کی وجہ سے آپ کو شاعر قرار دیا تھا یہ اعتراض کر دیا کہ آل عمران میں اس طرز کوبدل دیا گیا ہے۔میرے نزدیک اس سورۃ کا وقت نزول چوتھے سال نبوت کا آخر یا پانچویں سال نبوت کا شروع ہے کیونکہ تاریخوں سے صاف طور پر ثابت ہے کہ مکی وفد جب مسلمان مہاجرین کو حبشہ سے واپس لانے کے لئے گیا اور بادشاہ نے انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا تو انہوں نے پادریوں کو اپنے ساتھ ملا کر مسلمانوں پر ہتک مسیح کا لزام لگا دیا۔اس پر حضرت جعفرؓ بن ابی طالب نے سورۂ مریم کی ابتدائی آیات پڑھ کرحضرت مسیح ؑ کے متعلق اسلامی عقیدہ بتایا جس پر بادشاہ کی تسلی ہو گئی اور وہ اپنے جواب پر پختہ ہو گیا اور ہجرت حبشہ رجب سنہ ۵میں ہوئی تھی یعنی رسول کریم صلی ا للہ علیہ وسلم کے دعویٰ پر جب ساڑھے چار سال گزر چکے تھے۔اگر ہم سال کو ابتداء یعنی محرم سے شمار کریں تو یہ عرصہ ساڑھے چار سال کا بنتا ہے اور اگر درمیان سے شمار کریں تو اور بھی چھوٹا ہو جاتا ہے کیونکہ وحی نبوت کا آغاز رمضان میں ہوا ہے میں اس وقت پورے یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ جب مؤرخین نبوت کے سال شمار کرتے ہیں تو پہلے سال کا شمار محرم سے کرتے ہیںیا رمضان سے۔اگر وہ ابتدائی مہینہ سے شمار کرتے ہوں تب تو یہ ساڑھے چار سال کا عرصہ بنتا ہے اور اگر وہ رمضان سے شمار کرتے ہیں تو اس صورت میں یہ عرصہ تین سال دس ماہ کا بن جائے گا۔بہرحال یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ہجرت حبشہ سے پہلے یہ سورۃ نازل ہوئی اور اتنا عرصہ پہلے نازل ہوئی کہ صحابہؓ نے اس کو یاد کر لیا۔اس غرض کے لئے ہمیں کم از کم پانچ چھ ماہ کا عرصہ ضرور نکالنا پڑے گا۔جس میں یہ سورت اتنی معروف ہو گئی کہ صحابہؓ نے اس کو حفظ کر لیا۔ان امور کو دیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ چوتھے سال کا آخری حصہ اس کے نزول کا وقت تھا اس سے پہلے تین سال تک رسول کریم صلی ا للہ علیہ وسلم پر برابر الہامات نازل ہوتے رہے لیکن عیسائیت کو مخاطب نہیں کیا گیا تین سال کے بعد یکدم عیسائیت کو مخاطب کیا گیا اور تفصیلی طور پر مخاطب کیا گیا۔جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے ذکر کے علاوہ جن پیشگوئیوں پر عیسائیوں کے نزدیک ان کے دعویٰ کی بنیاد تھی ان سب کی طرف اشارہ کیا گیا۔اسی طرح مسیحیوں کے عقائد کو بیان کیا گیا اور ان کو دلائل کے ساتھ ردّ کیا گیا اس کے چار پانچ ماہ کے بعد حبشہ کی طرف ہجرت ہو جاتی ہے جہاں عیسائی بادشاہت ہوتی ہے اور عیسائیوں کے ساتھ مسلمانوں کا مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔چنانچہ اس سے متاثر ہو کر ایک صحابی عبید اللہ بن جحش جو مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ گئے تھے وہاں مرتد ہو کر عیسائی ہو گئے (شرح زرقانی الھجرۃ الثانیۃ الی الحبشۃ) اس سورۃ کا ایسے وقت میں نازل ہونا صاف طور پر بتاتا ہے کہ اس کے نزول میں ایک بہت بڑی حکمت