تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 104
اس جگہ مسیحی یہ کہہ سکتے ہیں کہ تم بھی تواس کو بن باپ مانتے ہو آخر تم کس وجہ سے یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ وہ بن باپ پیدا ہوا اور دشمن کو اس پر یہ الزام لگانے کا موقع ملا کہ وہ ولد الزنا ہے۔تم کفارہ کو تو مانتے نہیں اور جو وجہ ہم پیش کرتے ہیں اس کو رد کرتے ہو۔پھر تم کیوں کہتے ہو کہ وہ بن باپ پیدا ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مسیح کے بن باپ پیدا ہونے کی یہ وجہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ وعدہ تھا کہ آئندہ ان کی اولاد میں پے درپے انبیاء آئیں گے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت زمین وآسمان کے قیام تک ان کی نسل میں رہے گی اور پھر پے درپے نبیوں کی معرفت یہ وعدہ کیا گیا تھا۔یہ وعدہ صدیوں تک اس طرح متواتر پورا ہوا۔کہ موسوی سلسلہ کے لوگ دلیر ہو گئے اور انہیں اس امر کا یقین ہو گیا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے خدا تعالیٰ اولاد ابراہیم کو نہیں چھوڑ سکتا اور موسوی سلسلہ سے نبوت اور بادشاہت باہر نہیں جا سکتی۔اس کانتیجہ یہ نکلنا شروع ہوا کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء کا انذار بیکار جانے لگا۔نبی آتے اور وہ اپنی تعلیم پیش کرتے تو یہود ان کا مضحکہ اڑا دیتے۔جیسے یرمیاہ وغیرہ آئے اور یہود نے ہنس کر ان کو رد کر دیا(یرمیاہ باب ۱۸ ٓیت ۱۸) اور سمجھا کہ خدا نے یہ نعمت ہمیں ہمیشہ کے لئے دے دی ہے۔تب خدا نے انہیں بعض نبیوں کی معرفت یہ خبر دی کہ ایک کنواری بیٹا جنے گی (یسعیاہ باب ۷ آیت ۱۴)یعنی وہ موعود آدھا اسرائیلی اور آدھا غیر اسرائیلی ہو گا یہ ایک انذار تھا جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ اگر یہود نبیوں کی باتیں نہ سننے پر اسی طرح مصر رہے تو آئندہ وہ نبی آئے گا جو نہ باپ کی طرف سے اسرائیلی ہو گا اور نہ ماں کی طرف سے اسرائیلی ہو گا سو مسیح کے وجود میں وہ وعدہ پورا ہوا مسیح بن باپ کے پیدا ہوا اور اس کے ذریعہ سے یہود کو نوٹس دے دیا گیا کہ آدھی نبوت ان سے لے لی گئی ہے۔کیونکہ نسل ہمیشہ باپ سے چلتی ہے سو انہیں کہا گیا کہ اب جو نبی آیا ہے وہ باپ کی طرف سے یہود میں سے نہیں ہے اگر اس کے انذار سے بھی یہود نے فائدہ نہ اٹھایا تو اگلا نبی بالکل ہی غیراسرائیلی ہو گا گو ابراہیم کی نسل سے ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے وعدے تھے اور اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا تھاکہ بلا وجہ ان وعدوں کی برکات سے یہود کو محروم کر دے اس لئے اس نے پہلے متواتر انبیاء بھیجے جب یہود میں متواتر نبی آتے رہے اور ان کو یہ یقین کامل ہو گیا کہ اب یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبوت غیر اسرائیلیوں میں چلی جائے تو خدا تعالیٰ نے اپنے بعض انبیاء کی معرفت ایک ایسے رنگ میں انذار کیا جس کے بعد اگر ان کے اندر کچھ بھی ایمان ہوتا تو ان کو ہوش آ جانا چاہیے تھا اور یہ سمجھ لینا چاہیے تھا کہ اب ہماری شرارتوں کی وجہ سے ضرور کچھ ہونے والا ہے۔مگر وہ پھر بھی نہ سمجھے اور اپنی شرارتوں پر مصر رہے۔آخر خدا تعالیٰ نے اپنے انذار کے مطابق مسیح کو بن باپ پیدا کیا اور یہودیوں کو سمجھایا کہ آدھی نبوت تو ہم نے لے لی ہے اگر آئندہ