تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 92

لئے درحقیقت یہ نزول ساری دنیا پر ہی ہے۔پھر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اس محبت کی قد رکیوں نہیں کرتے۔نُزِّلَ اِلَيْهِمْ سے اس امر پر بھی زوردیاگیا ہے کہ اس کتاب کاسب دنیا تک پہنچانا ضروری ہے۔کیونکہ اس کا نزول سب دنیا کی طرف ہے اوریہ سب دنیا کامال ہے۔پس ان تک اس کا پہنچانا نہایت اہم فرض ہے۔کاش!مسلمان اس نکتہ کو سمجھتے اورتبلیغ اسلام کے فریضہ کے اداکرنے میں سستی نہ کرتے۔توآج دنیا میں اسلام کے سوا کوئی اورمذہب نظرنہ آتاکیونکہ اس کی پا ک تعلیم کے سامنے کوئی اورتعلیم ٹھہر ہی نہیں سکتی۔آج بے شک اس کی اشاعت میں روک ہے۔کیونکہ دنیوی حرص و آز اسلام کے قبول کرنے میں روک ہورہی ہے مگر یہ حالت توآج پیداہوئی ہے۔پہلے تودنیا بھی مسلمانوں کے قبضہ میں تھی۔جس طرح دین ان کے ہاتھ میں تھا۔لِتُبَيِّنَ کے الفاظ سے قرآن کی دوسری کتب کے بالمقابل فضیلت لِتُبَيِّنَ میں ایک اورلطیف مضمون بھی بیان کیاگیا ہے اوروہ یہ ہے کہ بعض کتب ایسی ہیں جن کو انسان شرم کی وجہ سے سنا ہی نہیں سکتا۔مثلاً بائبل کے بعض ٹکڑے۔لیکن قرآن کریم ایسی شریفانہ باتوں پر مشتمل ہے کہ ہر جگہ پر اُسے سنایاجاسکتاہے۔ایک عیسائی کاقول ہے کہ قرآن میں یہ خوبی ہے کہ ہرمجلس میں پڑھاجاسکتاہے۔مگر ہماری کتابیں ایسی ہیں کہ ہرمجلس میں نہیں پڑھی جاسکتیں۔حضرت لوط اوران کی لڑکیوں کاواقعہ۔بنی اسرائیل کاعورتوں بچوں کو خدا تعالیٰ کے حکم سے قتل کرنا یہ ایسے واقعات ہیں کہ ان کامجالس میں بیان کرنا طبیعت پر سخت گراں گذرتا ہے(پیدائش باب ۱۹ آیت ۳۱،۳۸ واستثناء باب ۳ آیت ۶)۔آریہ لوگوں کی نیوگ کی تعلیم بھی ایسی ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ توالگ رہے خود آریہ خاوند اپنی بیوی کو وہ تعلیم پڑ ھ کر نہیں سناسکتا۔مگرقرآن کریم ایسے مضامین پر مشتمل ہے اورایسے الفاظ میںبیان ہواہے کہ اسے ہرقوم پر اورہرعمر کے لوگوں کے سامنے پڑھاجاسکتاہے۔الہام فکر انسانی کو تیز کر دیتا ہے۔لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ سے اس طر ف اشارہ کیا گیا کہ الہام فکر انسانی کو تیزکردیتا ہے۔صحابہ کانمونہ اس کابیّن ثبوت ہے۔وہ اَن پڑھ اورزمانہ کے حالات سے ناواقف تھے۔مگرالہام قرآنی کو سن کر اورسمجھ کر دنیا کے علماء کے استاد بن گئے اورایسی سمجھ ان کو عطاہوئی کہ دنیا کے ہر علم میں انہوںنے آئندہ زمانہ کے لئے ایک بہترین سبق چھوڑاہے۔