تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 88

سپرد کردیا اور اسی پر بھروسہ و اعتماد کیا۔(اقرب) تفسیر۔مراد یہ ہے کہ ھَاجَرُوْا اورظُلِمُوْا جن لوگوں کی نسبت ہم نے کہاہے وہ ایسی جماعت ہے کہ اس پر ظلم ہوئے اورانہوں نے صبر کیا اورگھروں سے بے گھر کئے گئے مگراللہ تعالیٰ پر امید نہ چھو ڑی۔آنحضرت ؐ کی ترقی کے متعلق کفار کے خیالات کی تردید اس آیت میں پہلی دوصفات کی گویا مزید تشریح کی گئی ہے مظلوم ہونا خدا تعالیٰ کی مدد کو کھینچتاہے۔مگرجو مظلوم بھی ہواورپھر صبر بھی کرے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو بہت زیادہ اوربہت جلدی جذب کرتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاطرتکلیف اٹھا کرہجرت کرناایک بڑی نیکی ہے۔مگر اس حالت میں جب کہ سب سامان لٹ جائے اوروطن تک چھوڑنا پڑے دل کو اس یقین سے پُررکھنا کہ ہم تباہ نہیں ہوسکتے اللہ تعالیٰ ضرور ہماری مدد کر ےگا اس سے بھی بڑی نیکی ہے۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ اورہم تجھ سے پہلے (بھی ہمیشہ)مردوں ہی کو رسول بناکر بھیجا کرتے تھے ہم ان کی طرف وحی بھیجتے تھے فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ اور(اے منکرو)اگرتم (اس حقیقت کو )نہیں جانتے تواس(اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے )ذکر(کوماننے )والوں لَا تَعْلَمُوْنَۙ۰۰۴۴ سے (ہی) پوچھ(کرمعلوم کر)لو۔حَلّ لُغَات۔الذّکر۔اَلذّکْرُ کے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر ۱۰۵۔اَلذِّکْرُ: التَّلفُّظُ بِالشَّیْءِ وَاِحْضَارُہُ فِی الذِّھْنِ بِحَیْثُ لَایَغِیْبُ عَنْہُ۔کسی چیز کا منہ سے ذکر کرنا اور اسے ایسے طور پر مستحضر فی الذہن کرنا کہ وہ بھول نہ جائے۔اَلصِّیْتُ وَمِنْہُ لَہٗ ذِکْرٌ فِی النَّاسِ۔شہرت اور انہی معنوں میں لَہُ ذِکْرٌ فِی النَّاسِ کا فقرہ بولتے ہیں کہ فلاں شخص کو لوگوں میں شہرت حاصل ہے۔تفسیر۔یعنی ان لوگوں کی مخالفت کی بڑی وجہ یہی ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مدعی ہمارے جیسا آدمی ہے اس لئے ہمار اکیا بگاڑ سکتا ہے۔لیکن یہ نہیں جانتے کہ پہلے نبی بھی توانسانوں جیسے انسان تھے پھر وہ کس طرح