تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 83

سمجھتے ہیں۔حالانکہ اس دنیا میں جو ہماری طاقت کااظہار ہورہا ہے۔اس سے وہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی بات انہونی نہیں۔ہم توجب کسی امر کے متعلق کہتے ہیںکہ ایساہوجائے ویساہی ہو جایاکرتاہے۔پھر قیامت پر کیوں شک ہے۔پیشگوئیوں کو قیامت کے لئے بطور دلیل بیان کیا گیا ہے اس جگہ ان پیشگوئیوںکو قیامت کی دلیل کے طورپرپیش کیا ہے جو اس دنیا میں نبی کرتے ہیں اورباوجودحالات کے خلاف ہونے کے وہ پوری ہوتی ہیں۔اوراللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کو ثابت کردیتی ہیں۔فرماتا ہے ان پیشگوئیوں پر قیاس کرکے تم قیامت کے امکان کو بھی سمجھ سکتے ہو۔لفظ كُنْ سے مراد كُنْ۔بعض لوگوںکو ا س آیت کے بارہ میں یہ شبہ پیداہواکرتا ہے کہ کُنْ کہنے سے کیامراد ہے وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی چیز موجود ہی نہ تھی توپھر حکم کس کو دےدیا۔لفظ كُنْ سے آریہ اصحاب کا غلط استدلال آریہ لوگ کہتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ پہلے کوئی ماد ہ موجود تھاتبھی تواللہ تعالیٰ نے اس پرحکومت کی۔جوچیز ہے ہی نہیں وہ اسے حکم کس طرح دے سکتا ہے (ستیارتھ پرکاش اردو ترجمہ باب ۱۴ ص ۶۹۰)۔مگر یہ استدلال ان کا غلط ہے کیونکہ اس آیت کاو ہ ترجمہ جس پر اعتراض کیا جاتا ہے یہ ہے ’’جب ہم اراد ہ کرتے ہیں اس چیز کا جس کے متعلق ہم چاہتے ہیں کہ و ہ ہوجائے۔اس کے متعلق کہتے ہیں کہ ہوجا۔پس وہ ہوجاتی ہے‘‘۔ظاہر ہے کہ ان الفا ظ پر اوپر کااعتراض اس صورت میں بھی کہ مادہ کو پہلے سے موجود مانا جائے وارد ہوتاہے۔کیونکہ خواہ پہلے سے موجود مادہ سے ہی کسی چیز کو بنایاجائے جب تک اس کی وہ نئی صورت نہ بنے جسے بنانے کااراد ہ کیا گیاہو اسے کو ئی حکم نہیں دیاجاسکتا۔غرض آریوں کا اس آیت سے اپنے حق میں استدلال بالکل باطل ہے کیونکہ مادہ کوموجودماننے کی صورت میں بھی وہی اعتراض باقی رہتاہے جسے وہ دور کرناچاہتے ہیں جس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ آیت کے و ہ معنے ہی نہیں جو اوپر کئے گئے ہیں۔بلکہ آیت کے معنے ہی کچھ اورہیں۔آنحضرت ؐ کا ایک واقعہ میں لفظ كُنْ کا استعمال وہ صحیح معنے کیا ہیں؟ اسے سمجھنے کے لئے کُنْ کے معنوں کو پہلے صاف کرلینا ضروری ہے کُنْ کے عربی زبان میں کئی معنے ہوتے ہیں جن میں سے ایک معنے ’’ ایسا ہو جائے‘‘کے ہیں۔اس کاثبوت مندرجہ ذیل واقعہ سے ملتا ہے۔تاریخ میں آتاہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کو روانہ ہوگئے۔توبعض صحابہؓ پیچھے رہ گئے۔ان میں سے ایک ابو خیثمہ بھی تھے۔یہ بہت نیک تھے۔ان کا