تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 82

کہ جس بارہ میں یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں اس کے متعلق توانہیں حقیقت کھول کرسنادے۔پس سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اس دنیا میں حقیقت کھول دی گئی تواگلے جہان کی ضرورت نہ رہی۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس دنیا کے متعلق جب تبیین کالفظ استعمال ہوتاہے تواس کے معنے عقلی طورپر اوردلائل سے حقیقت کے کھول دینے کے ہوتے ہیں اورایسی تبیین صرف ان لوگوں کے لئے کافی ہوتی ہے جو حق کے متلاشی ہوتے ہیں۔مگرجولوگ حق کے متلاشی نہ ہوں ان کے لئے یہ تبیین مفید نہیں ہوتی۔پس ان کے لئے ایسی تبیین کی ضرورت ہے جو ا س قدر واضح ہو کہ اس کے بعد انکار کی گنجائش نہ رہے۔اوربہانہ سازی کاموقعہ ہی باقی نہ رہے۔یہ تبیین اس دنیا میں نہیں ہوسکتی۔کیونکہ ایسی تبیین کے بعد اعلیٰ ایما ن نصیب نہیں ہوسکتا۔جس طرح سورج کو سورج ماننا کوئی اعلیٰ خوبی نہیں۔اسی طرح ایسے اظہارحق کے بعد ایمان کے اعلیٰ مقامات حاصل نہیں ہوسکتے۔پس انسانوں میں سے جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں کو حاصل کرناچاہتے ہیں۔ان کو موقعہ دینے کے لئے نبیوں والی تبیین تو اس دنیا میں ہوجاتی ہے اورسب بنی نوع انسان پر صداقت ظاہرکرنے کے لئے وہ تبیین جس کا ذکر اس آیت میں ہےاگلے جہان میں ہوتی ہے۔ایسی تبیین کے بعد ایمان خاص نفع نہیں دیتا۔ہاں کفا ر کو اس قابل بنادیتاہے کہ سزابھگتنے کے بعد خدا تعالیٰ کی بخشش کوحاصل کرلیں۔غرض اس آیت میں یہ بتایاہے کہ وہ تبیین جو سب کو ایما ن دےدے اس دنیا میں ہونہیں سکتی۔پس ایک اورجہان کی ضرورت ہے جہاں اس تبیین کو اللہ تعالیٰ ظاہر فرمائے۔ایسی تبیین جس کا کوئی انکار نہ کر سکے بعث بعد الموت کے وقت ہوگی وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اس جملہ سے پہلی دلیل کوواضح کیا ہے اوربتایا ہے کہ اس جگہ جس تبیین کاہم نے ذکر کیا ہے۔وہ ایسی تبیین ہے جس کے بعد کافر انکار کرہی نہیں سکتا۔اوراپنے جھوٹے ہونے کااسے یقین ہو جاتا ہے نہ کہ عام تبیین جس کا ذکر دوسری آیات میں کیاگیاہے۔اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ ہماراقول کسی (ایسی )چیز کے متعلق جس(کے پوراکرنے)کاہم ارادہ کریں صرف یہ ہوتاہے کہ ہم اس کے متعلق کہہ فَيَكُوْنُؒ۰۰۴۱ دیتے ہیں کہ ہوجا تووہ ہوجاتی ہے۔تفسیر۔قیامت کے انکار کی وجہ فرمایا ایک وجہ قیامت کے انکار کی یہ ہے کہ لوگ اسے ناممکن