تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 79

کیا جائے تو اس کے معنے برے ہوتے ہیں۔اوراگراچھے کام کے لئے اس لفظ کااستعمال ہوتوا س کے معنی اچھے ہوتے ہیں گویا یہ لفظ ذاتی معنے کوئی نہیں رکھتا۔ا س نسبت کے مطابق اس کے معنے ہوتے ہیں جو جملہ میں اسے حاصل ہوتی ہے۔یہاں چونکہ خیر خواہی کے مفہوم میں یہ لفظ استعمال ہواہے۔اس لئے اس کے معنے اس جگہ اچھے ہیں۔یُضِلُّ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ مَنْ کی طرف ہے فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ۔اس میں یُضِلُّ کی ضمیر خدا تعالیٰ کی طرف نہیں پھر تی اوریہ معنے نہیں کہ جس کو خدا تعالیٰ گمراہ کرتا ہے اسے ہدایت نہیں دیتا کیونکہ اسی مضمون کو توپہلی آیت میں رد کیا گیا ہے۔پس ضمیر مَنْ کی طرف پھرتی ہے۔اورمراد یہ ہے کہ جو دوسروں کو گمراہ کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔اس جملہ میں اس طرف بھی اشار ہ ہے کہ ہدایت توتوجہ سے ملتی ہے جو دوسروں کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اپنے لئے ہدایت کے کب طلب گا ر ہوسکتے ہیں اورجب دل میں تبدیلی نہ ہو توہدایت کس طرح ملے۔مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۔اس سے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ نصرت تو انسان کوہدایت کے معاملہ میں سوائے خداکے کوئی دیتاہی نہیں۔مگریہ لوگ ہدایت کے ذریعہ کو بند کرچکے ہیں۔اگریہ سمجھیں کہ ان کو خود بخود ہدایت ہوجائے گی تویہ غلط بات ہے۔ان کی اصلاح محض اس طرح ہوسکتی تھی کہ یہ اسلام کوقبول کرتے۔مگر یہ لوگ توبتوں کو ہدایت کاذریعہ قرار دیتے ہیں اس لئے ان کی ہدایت مشکل ہے۔اورجب یہ خدا تعالیٰ سے منہ موڑکر جھوٹے معبودوں کی طرف متوجہ ہیں۔تو خدا تعالیٰ توان کی مدد کرے گانہیں۔باقی رہے ان کے معبود وہ ان کی مدد کرہی نہیں سکتے۔پس ان کاکوئی بھی مدد گار نہ ہوگا۔وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ١ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ١ؕ اورانہوں نے اللہ (تعالیٰ)کی بڑی زوردارقسمیں کھائی ہیں (کہ )جو مرجائے اللہ (تعالیٰ)اُسے (پھر )زندہ نہیں بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَۙ۰۰۳۹ کرے گا(مگرحقیقت)یوں نہیں یہ (تو ایک ایسا)وعدہ ہے جس (کے پوراکرنے )کاوہ ذمہ وار ہے۔لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو )نہیں جانتے۔حل لغات۔جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ جَھَدَ فِی الْاَمْرِ (یَجْھَدُ جَھْدًا) کے معنے ہیں جَدَّ وَتَعِبَ فِیہِ۔کسی