تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 77
ہو۔اَلْکَاھِنُ۔کاہن۔اَلشَّیْطَانُ۔شیطان۔اَلْاَصْنَامُ۔بت۔کُلُّ مَعْبُوْدٍ مِنْ دُوْنِ اللہِ۔معبود باطل۔مَرَدَۃُ اَھْلِ الْکِتٰبِ۔اہل کتاب میں سے سرکش لوگ۔اس کی جمع طَوَاغِیتُاورطَوَاغٍ آتی ہے (اقرب) الطَّاغُوتُ : السَّاحرُ۔ساحر۔اَلْمَارِدُ مِنَ الْجِنِّ۔جنّات میں سے سرکش۔اَلصَّارِفُ عَنِ طَرِیْقِ الْخَیْرِ۔نیکی سے روکنے والا (مفردات) ھَدٰی کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر ۲۸۔یَھْدِی ھَدٰی سے ہے اور ھَدَاہٗ الطَّرِیْقَ وَاِلَیْہِ وَلَہٗ کے معنے ہیں بَیَّنَہٗ لَہٗ وَعَرَّفَہٗ بِہٖ۔راستہ دکھایا ، بتایا اور واضح کیا۔ھَدٰی فُلَانًا: تَقَدَّمَہٗ اس کے آگے آگے چل کر منزل مقصود تک لے گیا۔ھَدَاہٗ اللہُ اِلَی الْاِیْمَانِ اَرْشَدَہٗ۔ایمان کی طرف رہنمائی کی۔(اقرب) العاقِبۃُ۔اٰخِرُ کُلِّ شَیْءٍ۔ہرچیز کاآخر۔انجا م۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں کفار کے اعتراضات کے پانچ جوابات اس آیت میں کفارکے مذکورہ بالااعتراض کے متعدد جواب دیئے گئے ہیں۔پہلاجواب یہ دیا گیا ہےکہ ہم ہر قوم میں رسول مبعوث فرماچکے ہیں۔اوران میں سے ہر اک نے توحید کی ہی تعلیم دی ہے۔پس اگر تمہارایہ دعویٰ درست ہے کہ خدا تعالیٰ شرک کو بھی کسی حالت میں پسند کرسکتا ہے توبتائو کہ سب کے سب نبی شرک کے خلاف کیوں رہے اورکیوںتوحید کی تعلیم دیتے رہے۔اگر شرک بھی خدا تعالیٰ کی تصدیق کی مہر رکھتاہے توکوئی نبی توشرک کی تعلیم دینے والابھی آتا۔دوسراجواب بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ کے الفاظ میں دیا یعنی اگر جبر ہوتا تو پھر ایک ہی رسول کافی تھا جو ان لوگوںکو جنہیں ہدایت پر چلانامقصود تھا ہدایت دے دیتا۔بار بار اورہرقوم میں نبی بھیجنے کی ضرورت توتبھی ہوئی جبکہ لوگ بار بار نبیوں کے راستے کو چھو ڑگئے۔جبر کی صورت میں یہ امر ممکن نہ تھا۔تیسراجواب یہ دیاکہ ہرنبی کی تعلیم میں بد صحبت سے بچنے کا حکم موجود ہے اوربرے آدمیوں کو نہ ماننے کی تعلیم ہے۔یادوسرے لفظوںمیں شیطان کے حملہ سے محفوظ رہنے کا ارشاد ہے اگر یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو موحد بنادیا اوربعض کو مشرک۔اوراس دنیا میں جبر سے ہی کام لیاگیا ہے تواس تعلیم کے کیا معنے ہوئے۔اگر ہر اک شخص جس مذہب اوراصل پر ہے خدا تعالیٰ نے ہی اُسے اس مقام پر کھڑا کیا ہے اوراس کا اس میں اختیار نہیں تونبی بھیج کر ہوشیارکرنے کافائدہ کیا۔جو موحد ہے موحد رہے گااورجو مشرک ہے مشرک ہی رہے گا۔چوتھاجواب یہ دیاہے کہ ہر نبی کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے ان کے پیغام کو مان لیا حالانکہ پہلے وہ کافر تھے