تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 74

اُسْتُھْزِیءَ اِسْتَھْزَأَ سے مجہول کا صیغہ ہے اور اِسْتَھْزَأَ ھَزَأَ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جس کے معنے ہیں سَخِرَمِنْہُ اس سے ٹھٹھا کیا۔(اقرب) تفسیر۔سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا میں عذاب الٰہی کی فلاسفی بیان کی گئی ہے سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا سے مراد عمل کے بدنتائج ہیں اوربتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالمانہ عذاب نہیں دیتا۔بلکہ کافر خود اپنی سزاپنے عمل سے پیداکرتا ہے۔عذاب الٰہی کوئی بیرونی چیز نہیں بلکہ بدعمل انسان کے عمل کاطبعی نتیجہ ہے۔ا س میں عذاب الٰہی کی فلاسفی بیان کی گئی ہے۔یہی عذاب ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ورنہ وہ عذاب جوطبعی نتائج کی قسم سے نہیں ہوتا بسا اوقات قابل اعتراض ہو جاتا ہے جیسے بعض دفعہ دنیاوی مجسٹریٹ مجرم کو سزادیتاہے تولوگ سمجھتے ہیں کہ اس نے جرم سے زیادہ سزادے دی ہے۔مگر بدپرہیزی سے جو بیماری پیداہوتی ہے اس کی نسبت کوئی نہیں کہتاکہ وہ بدپرہیزی کی مناسب سزانہیں۔کیونکہ ہر اک جانتا ہے کہ وہ طبعی نتیجہ ہے اوراپنی حد سے بڑھ سکتا ہی نہیں۔حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠ سے بتایا ہے کہ کفار جس قسم کے اعتراض نبیوں پر کرتے ہیں ویسے ہی حالات میں سے انہیں گذرناپڑتا ہے۔اگروہ انہیں جھوٹاکہتے ہیں توخود جھوٹ کے الزام کے نیچے آتے ہیں اگربدکار کہتے ہیں توخود ان کی بدکاریاں کھولی جاتی ہیں۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ اورجن لوگوں نے شرک(کاطریق اختیار)کیا انہوں نے (یہ بھی )کہا ہے کہ اگر اللہ (تعالیٰ یہی )چاہتا (کہ اس مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ کے سواکسی کی عبادت نہ کی جائے)تونہ ہم(ہی)اس کے سواکسی چیز کی عبادت کرتے اورنہ ہمارے باپ داداایسا شَيْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى کر تے اورنہ (ہی )ہم اس کے (فرمانے کے )بغیر کسی چیز کو (خودبخود)حرام ٹھہراتے جو(لوگ)ان سے پہلے