تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 71

اس کو ڈھانپ لیا۔وَالْجَنَّۃ کُلُّ بُسْتَانٍ ذِیْ شَجَرٍ یَسْتُرُ بِاَشْجَارِہِ الْاَرْضَ۔اور جنت ہر اس باغ کو کہتے ہیں جس میں کثرت سے درخت ہوں اور وہ درختوں کے جھنڈ سے زمین کو ڈھانپ لے۔وَقَدْ تُسَمَّی الْاَشْجَارُ السَّاتِرَۃُ جَنَّۃٌ۔اور ڈھانپنے اور چھپانے والے یعنی گھنے درختوں کو بھی جَنَّۃٌ کہتے ہیں۔وَسُمِّیَتِ الْجَنَّۃُ اِمَّا تَشْبِیْہًا بِالْجَنَّۃِ فِی الْاَرْضِ وَاِنْ کَانَ بَیْنَہُمَا بَوْنٌ۔وَاِمَّا لِسَتْرِہِ نِعَمَہَا عَنَّا الْمُشَارَ اِلَیْہَا بِقَوْلِہ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّااُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ۔اور جنت کو اس لئے جنت کے نام سے پکارا گیا ہے کہ یا تو وہ دنیاوی باغات کے مشابہ ہے اگرچہ ان میں اور اس میں بہت فرق ہے یا اس وجہ سے کہ اس کی نعمتیں ہم سے پوشیدہ ہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ میں فرمایا ہے کہ جنت کی نعماء کا کسی کو علم نہیں۔(مفردات) عَدَنَ بِالْمَکَانِ عَدْنًا: اَقَامَ بِہِ۔عَدَنَ کے معنے ہیں کسی جگہ میں ٹھہرا۔تَوَطَّنَہٗ۔اس کو وطن بنایا۔قِیْلَ وَمِنْہُ جَنَّاتُ عَدْنٍ اَیْ جَنَّاتُ اِقَامَۃٍ لِمَکَانِ الْخُلُوْدِ اور بعض محققین لغت نے کہا ہے وَجَنّٰتُ عَدْنٍ میں عدن اقامت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ رہ پڑنے کے باغات۔کیونکہ ان میں ہمیشہ رہا جائے گا۔(اقرب) تفسیر۔یعنی وہ مقام خیر ہمیشہ رہنے والا ہوگا۔کیونکہ اچھی چیز کو ہمیشہ رکھاجاتا ہے۔تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُکا مطلب تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ۔یہ نہیں کہ اس کی تہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔بلکہ مراد یہ ہے کہ اس میں بہنے والی نہریں اُسی کےنظام کے ماتحت ہوں گی۔دنیا میں نہریں اوردریا ضروری نہیں کہ ان لوگوں کے تابع ہوں جن کے ملک یا زمین میں و ہ بہتے ہوں۔جب ایسی صورت ہو تو وہ ان سے پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔بسا اوقات دریا کئی ملکوں میںسے گذرتے ہیںاو ران سے فائدہ اٹھانے کے لئے ملکوں میں جنگ شروع ہوجاتی ہے۔پس ان الفاظ سے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ جنت کی نہریں جنت کے نظام کے کلی طورپر ماتحت ہوں گی اورکوئی دوسرا ان میں شریک نہ ہوگا۔جَنّٰتُ عَدْنٍ سے اس مقام کے بے نقص ہونے کی طرف اشارہ ہے جَنّٰتُ عَدْنٍسے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ وہ ایسا مقام ہے جس میں کوئی نقص نہیں۔کیونکہ فنا کاموجب نقص ہی ہوتا ہے۔لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَآءُوْنَ کے دو معنی لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَآءُوْنَ۔اس کے دومعنے ہوسکتے ہیں (۱)ان کی ہر خواہش پوری کی جائے گی کیونکہ ان کی مشیّت مشیّتِ ایزدی ہوگی۔گویا مَاتَشَآءُ وْنَ اِلَّا اَنْ یَّشَآءَ اللہُ (الدھر:۳۱) کی حالت ہو گی۔اوران کے دل میں انہی اشیاء کی خواہش پیداہوگی جو ان کو مل سکتی ہوں گی اورمل جائیںگی۔حرص و آز سے ان کے دل خالی ہوں گے اورحسد کی آگ سے وہ محفوظ ہوں گےاورہرگندگی سے دل پاک