تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 614
اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ يَّتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْۤ (تو)کیا (یہ سب کچھ دیکھ کر )پھر(بھی)و ہ لو گ جنہوں نے کفر(کاطریق )اختیار کیا ہے (یہ)سمجھتے ہیں کہ و ہ مجھے اَوْلِيَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ نُزُلًا۰۰۱۰۳ چھوڑ کر میرے بندوں کو مددگار بناسکیں گے ہم نے (تو)کافروں کی ضیافت کے لئے جہنم کوتیار کررکھا ہے حلّ لُغَات۔نُزُلًا اَلنُّزُلُ:مَاھُیِّئَ لِلضَّیْفِ۔مہمانی(اقرب) تفسیر۔یہ ان ہی لوگوں کا ذکر ہے جوحضرت مسیح ؑ کو نجات دہندہ اورخدا کابیٹامانتے ہیں۔جن کاابتدائے سورۃ میں ذکرآیاتھا۔اوراس آیت سے ظاہر ہوگیا کہ اوپر کی آیات میں مسیحیو ںکا ہی ذکر تھانہ کہ کسی اورقوم کا۔قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًاؕ۰۰۱۰۴اَلَّذِيْنَ ضَلَّ تو(انہیں)کہہ(کہ)کیا ہم تمہیں ان لوگوں سے آگاہ کریںجواعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گھاٹاپانے سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ والے ہیں۔(یہ وہ لوگ ہیں )جن کی (تمام تر)کوشش اس ورلی زندگی میں ہی غائب ہوگئی ہے۔اور(اس کے يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۰۰۱۰۵ ساتھ )و ہ(یہ بھی)سمجھتے ہیں کہ وہ اچھاکام کررہے ہیں۔حلّ لُغَات۔صُنْعًا اَلصُّنْعُ کے معنے ہیں اَلْعَمَلُ۔کام۔اَلْاِحْسَانُ۔احسان۔اِیْجَادُ شَیْءٍ مَسْبُوْقٍ بِالْعَدَمِ۔غیرموجود چیز کی ایجاد کی (اقرب) تفسیر۔یعنی دنیا کونفع پہنچانے کے لئے ایجادات کرناہی اپنی زندگی کامقصد سمجھتے ہیں دین کی طرف توجہ نہیں۔بلکہ اُسے فضول سمجھتے ہیں۔