تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 612
کاسمندروں پرقبضہ ہوگا۔اورسب دنیا کے سمندروں پر ان کے جہاز چلیں گے۔کیونکہ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ کے الفاظ آیت میں استعمال ہوئے ہیں جن کے معنے ہیں کہ سمندرکی سب لہروں پرسے وہ آئیں گے۔نیزاس آیت میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ ان کے یہ سفربڑی جلدی سے طے ہوں گے۔اس سے دخانی جہازوں کی ایجاد کی طرف اشارہ ہے چنانچہ دیکھ لویہ پیشگوئی کس طرح حرف بہ حرف پو ری ہوئی۔سمندرہی کے ذریعہ سے یہ اقوام مشرق میں پھیلیں۔اورسمندر ی سفر جس طر ح ان کے زمانہ میں جلدی طے ہونے لگاہے اس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَىِٕذٍ لِّلْكٰفِرِيْنَ عَرْضَاۙ۰۰۱۰۱ اورہم اس دن جہنم کو کافروں کے بالکل سامنے لے آئیں گے تفسیر۔و ہ دن جہنم کے سے ہوں گے ایک دوسرے سے دشمنی بڑھ جائے گی اورملک ملک پرغلبہ پانے کی کوشش کرے گااوریہ بھی مراد ہے کہ یہ اقوام سخت بے دین ہو ںگی اوراللہ تعالیٰ سے غافل۔اورایسے کام کریں گی جوانسان کوجہنم کامستحق بنادیتے ہیں۔ا۟لَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ فِيْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِيْ وَ كَانُوْا لَا جن کی آنکھیں میرے ذکر(یعنی قرآن کریم )کی طرف سے (غفلت کے )پردہ میں تھیں اوروہ سننے کی طاقت يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ سَمْعًاؒ۰۰۱۰۲ (بھی )نہیں رکھتے تھے تفسیر۔اس میں بتایاہے کہ عبادت اس قوم سے بالکل اٹھ جائےگی اوریا توشروع زمانہء ترقی میں خدا تعالیٰ کے لئے انہوں نے بڑی بڑی تکالیف اٹھائی تھیں اوریااس زمانہ میں یہ حال ہوگاکہ اللہ تعالیٰ کانام مٹ جائے گااوریہ لوگ ہرکام کو اپنے کما ل کی طرف منسوب کریں گے۔وَ كَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ سَمْعًا میں بتایاہے کہ اس قدرزنگ دل پر لگ جائے گاکہ خدا کاکلام سننے کی طاقت اور رغبت بالکل دلوں سے جاتی رہے گی۔چنانچہ ا س وقت مغربی اقوام کایہی حا ل ہے خداکے نئے کلام کاسننا توالگ