تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 587

ممنون نہ تھے استقبال کے لئے آئے جس کے یہ معنی تھے کہ ہم نے پہلے آپ کی اس خدمت کو براسمجھاتھا مگراب اللہ تعالیٰ نے ہم پر حقیقت کھول دی ہے اس لئے اے محمدؐ آپ پر سلام ہو آیئے ہمارے گھروں کو برکت دیجئے۔اورہماری امتوں کونجات دلائیے۔ا ب دیکھو کہ یہ مضمو ن جو علم تعبیرالرویا سے نکلتاہے یہ توایساضروری ہے کہ اس کے لئے رسول کریم صلعم فرماتے کہ کاش موسیٰ علیہ السلام خاموش رہتے توامت محمدیہ اور میرے کاموں کی کچھ اورتفصیل ہمیں ان کے اسراء سے معلوم ہوجاتی(بخاری کتاب التفسیر سورۃ الکہف قولہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ۔۔۔)۔مگرکون عقلمند کہہ سکتاہے کہ محمد رسول اللہ صلعم نے یہ فرمایاکہ یہ سینما کچھ دیراورہوتا توہم بھی کشتیوں کے ٹوٹنے نوجوانوں کے قتل ہونے اوردیواروں کے تعمیرکانظارہ دیکھتے۔نعوذ باللہ من ذالک۔وَالْـحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ وَ ھَبَ لِی مِنْ لَّدُنْہُ عِلْمًا رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا وَاِسْلَامًا۔آمین اسراء موسیٰ میںبیان کردہ امور کی حکمت اسراء موسیٰ ان واقعات اوران تشریحا ت کوپڑھ لینے کے بعد جومیں نے اوپربیان کی ہیں یہ آسانی سے سمجھ میں آسکتاہے کہ موسیٰ کے اسراء کو اس جگہ پر اس لئے بیان کیاگیاہے تایہ بتایاجائے کہ(۱)حضرت مسیح ناصری کی قوم جوامت موسویہ کاآخر ی حصہ ہے اس کے بگڑ جانے کے بعد بعثت محمدیہ مقدر تھی۔(۲)پس جب دورتوحید کے بعد مسیحی بگڑ گئے تومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاظہور ضروری تھا۔(۳)اسلام کی تعلیم ایسے قوانین اورایسے اصول پر مبنی ہے کہ موسوی تعلیم اس سے بعض جگہ شدید اختلارف رکھتی ہے۔اس وجہ سے موسوی اورعیسوی امتوں کے لئے اس کے ساتھ تعاون کرنا مشکل ہے مگراس تعلیم کے بغیرنجات بھی نہیں۔(۴)یہودی اور مسیحی لوگ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوان کے دعویٰ کے وقوت نہیں مانیں گے بلکہ بحیثیت قوم ایک لمبے عرصہ کے بعد مانیں گے۔اس عرصہ میں وہ اپناروحانی سفرالگ طور پر جاری رکھیں گے (۵)آخر ایک لمبے عرصہ کے بعدوہ تھک جائیں گے اوران کے دل اپنی کوششوں کے ذریعہ امن حاصل کرنے سے مایو س ہوجائیں گے تب و ہ اپنی حالت کاجائز ہ لیں گے اورسمجھ لیں گے کہ یہ سفرہم نے بغیرکسی مقصد کے جاری رکھا۔درحقیقت ہمارااکیلا سفر بہت پیچھے ختم ہوچکا ہے۔(۶)اس وقت وہ پیشگوئیاںجوقرآن کریم نے ان کی کتب سے محفوظ کرلی ہیں ان کی ہدایت کاموجب ہوں گی اور(۷)وہ ان قیود کوتسلیم کرنے کے لئے تیار ہوجائیں گے جن کوماننے کے لئے تیار نہ تھے۔اوراپنے وحشی جذبات کوقتل کرکے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار جذبات پیداکرنے پر آمادہ ہوجائیں گے تب اللہ تعالیٰ کارحم ان پرنازل ہوگا اوروہ اس کی رحمت کے سمندر میں داخل ہوجائیں گے جس کاکوئی کنارہ نہیں جس کے بعد کوئی اورسمندر نہیں۔سوائے اس کے جواس کاحصہ ہو اوراسی میں سے ہو۔