تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 584

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ يُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ اس لئے ہم نے چاہاکہ ان کارب انہیں پاکیز گی میں ان سے اچھا اوررحم(وشفقت)میں (اپنے ماں باپ رُحْمًا۰۰۸۲ سے)زیادہ قریب (لڑکا)بدل دے۔تفسیر۔یعنی یہ قیود اورپابندیاں اس لئے لگائی گئیں تاکہ انسان کے اندر آزاد جذبات کی بجائے پابند اخلاق جذبات پیداہوں گویاپہلے جذبات قتل ہوکر ایک نیا صالح بیٹا ان کوملے جوانسان کامطیع ہو اوربجائے اس کو کفرو طغیان کے گڑھے میں گرانے کے اس کورحمت الٰہی کامستحق بنائے۔زَكٰوةًکے معنی زَكٰوةًکے معنے پاکیزگی اورترقی کے ہوتے ہیں۔اور رحم کے معنے رقت اورتلطّف کے ہوتے ہیں (اقرب)۔پس معنے یہ ہوئے کہ جونیابیٹاہوگا وہ ان کی ترقی اورپاکیزگی کاموجب اوران کی باتیں ماننے والا اوران کی اطاعت کرنے والاہوگا یعنے جب آزاد قوائے انسانی کو شریعت کی تلوار سے قتل کردیاجائے گا۔اوران کی وحشیانہ آزادی کی شدت کوتوڑ دیاجائے گاتووہ ایسی شکل اختیارکرلیں گے کہ روح و جسم کی بات مانیں گے اوران کی ترقی اورپاکیزگی کاموجب ہوں گے۔مگرجیساکہ بتایاجاچکاہے موسوی قو م نے ا س نکتہ کو نہ سمجھا اورعیش پرستی اوربے پردگی اورلہوولعب میں مشغول ہو گئے۔جس کی وجہ سے ان کی حرکات میں تیزی ان کی قوتوں میں حدت اوران کی بے باکانہ جرأت میں ایک شان توضرورنظر آتی ہے لیکن یہ طاقتیں انہیں طغیان وکفرمیں بڑھارہی ہیں اورنیکی اورتقویٰ سے دورکررہی ہیںاور مذہب و عقل جوروح اور جسم کے نمائندے ہیں ان کی بات ماننے کے لئے جذبات تیارنہیں ہوتے۔وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِي الْمَدِيْنَةِ وَ اوروہ دیوار اس شہر کے دویتیم لڑکوں کی تھی اورا س کے نیچے ان کا کچھ خزانہ (گڑاہوا)تھا۔اوران کاباپ نیک كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ (اورمناسب حال کام کرنے والا )تھا۔اس لئے تیرے رب نےچاہا۔کہ وہ اپنی مضبوطی کی عمرکوپہنچ جائیں