تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 581
فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِيْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ يَّاْخُذُ كُلَّ ایک (ظالم )بادشاہ تھاجوہرایک کشتی کو زبردستی چھین لیتاتھا۔اس لئے میں سَفِيْنَةٍ غَصْبًا۰۰۸۰ نے چاہاکہ اسے عیب دار کردوں۔تفسیر۔اس آیت میں وہ تشریح بیان کی گئی ہے جوگزشتہ واقعات کی اس عبداللہ نے بیان کی ہے۔بعض دفعہ خواب میں بتائی ہوئی تعبیر بھی تعبیر طلب ہوتی ہے اس کے متعلق یادرکھنا چاہیے کہ بعض دفعہ انسان خواب میں ہی تعبیرکر تاہے کبھی وہ تعبیر واضح ہوتی ہے اور کبھی وہ جزئی انکشاف کرتی ہے اوریقظہ کی حالت میں پھرایک دوسری تعبیر کی محتاج ہوتی ہے وہی معاملہ یہاں ہے جوتشریح عبداللہ نے کی ہے وہ کسی قدراغلاق کو ضرور دورکرتی ہے مگر واضح تعبیر نہیں بلکہ اس امر کی محتاج ہے کہ مادی دنیا کے اصول کے مطابق اس کی دوبارہ تشریح کی جائے۔سب سے پہلے عبداللہ نے سفینہ والامعاملہ لیا ہے اوراس کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ یہ کشتی مسکینوں کی تھی جواس سمند رمیں کام کرتے تھے پس میں نے چاہاکہ میںاس کو عیب دارکردوں اوراس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پرے ایک اوربادشاہ ہے جوہردرست کشتی کو جبراً چھین لیتا ہے پس اس بادشاہ کے ضررسے بچانے کے لے میں نے کشتی کوتوڑ دیا۔مساکین کی تعبیر باقی سب امو ر کی تعبیر تومیں پہلے بتاآیاہوں صرف مسکینوںاوربادشاہ کی تعبیر باقی ہے۔سومسکینوں کی تعبیر تو مسکین دل لوگ ہیں جن کو دنیا کے اموال اورترقیاں غریبوں کی خبرگیر ی اورا ن کی ہمدردی اوران کے ساتھ مل کررہنے سے نہیں روکتے۔بادشاہ کی تعبیر اوربادشاہ سے مراد اس نظارہ میں دنیا پرستی کی روح ہے کیونکہ دنیوی بادشاہ دنیا کاایک ظہور ہوتے ہیں اور چونکہ جبراً کشتیاںچھین لینے کا ذکر ہے اس لئے اس سے مراد دنیا کی محبت کی روح ہے اورمراد یہ ہے کہ جن کی دنیا میں دینی روح نہیں ہوتی اورجن کے مالوں کاکافی حصہ غرباء اوررفاہ عامہ کے کاموں کے لئے نہیں نکلتا۔ان کودنیا کی محبت اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔اوران کے مال شیطان کے قبضہ میں چلے جاتے ہیں۔اس لئے