تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 580
کریں نہ خدا تعالیٰ کے سواکسی اَورکی عبادت کریں اورنہ عقیدۃً اس کاکسی کوشریک قرار دیں اورنہ ناواجب طورپر جتھا بند ی کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق عدل اورانصاف سے دنیا میں کام کریں(گویا اللہ تعالیٰ اوربندوں سے صلح رکھنے کے بارہ میں اشتراک عمل کرنے کی ان سے درخواست کر )پھر فرماتا ہے کہ اگریہ لوگ ایسی منصفانہ بات بھی نہ مانیں اوراس مشترک پروگرام پر عمل کرنے اورتعاون کرنے کے لئے تیار نہ ہو ں تواے مسلمانو !تم ہی ہمارے رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان یہودونصاری سے کہہ دینا کہ جائو تم تعاو ن نہیں کرتے تونہ کروہم اپنے خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کے رسولؐ سے تعاون کریں گے۔اورعیسائیوں نے حضرت مسیح سے تعاون نہ کیا۔عیسائیوں نے حضرت مسیح سے تعاون نہ کیا اگر غورسے دیکھا جائے تومسیح کی قوم نے بھی ان سے تعاو ن نہیں کیا کیونکہ صلیب کے موقعہ پر سب لوگ حضرت مسیح کوچھو ڑ کربھاگ گئے۔قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَيْنِيْ وَ بَيْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِيْلِ مَا اس (خداکے برگزیدہ)نے کہا(کہ)یہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان جدائی (کا وقت)ہے۔جس بات لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَيْهِ صَبْرًا۰۰۷۹ پرتوصبر نہیں کرسکا میںابھی تجھے اس کی حقیقت سے آگاہ کرتاہوں۔تفسیر۔یعنی عبداللہ نے جب یہ معاملہ دیکھا کہ برابر اعتراض ہوتے ہی چلے جاتے ہیں توا س نے کہہ دیاکہ ہم آپس میں جداہوتے ہیں۔اس میں اس طرف اشارہ کیاگیاکہ باوجوددعوتِ اشتراک اور توحید کے نقطہ پر جمع ہوجانے کی درخواست کے جب اہل کتاب باز نہ آئیں گے اوراپنے شرک کو نہ چھو ڑیں گے تومحمدرسو ل اللہؐ یہود اورنصاریٰ سے قطع تعلق کرلیں گے اور آپس میں مقابلہ شروع ہوجائےگا۔اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ يَعْمَلُوْنَ فِي الْبَحْرِ کشتی توچند مساکین کی تھی جودریا میں کام کرتے ہیں اوران کے سامنے (دریاپار)