تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 576

جمال نے قتل کردیا۔نوجوان کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر اب ہم علم تعبیر رؤیا میں نوجوان آدمی کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر دیکھتے ہیں۔توعلاوہ اورتعبیروں کے ایک تعبیر یہ لکھی ہے ’’تَدُلُّ عَلَی الْحَرَکَۃِ وَالْقُوَّۃِ وَالْجَہْلِ(تعطیرا لانام زیر لفظ الشاب ) یعنی خواب میں نوجوان مرد کو دیکھے تواس کے معنے قوت نشاط اورجہالت کے ہوتے ہیں اوریہی امورانسان کوشیطان کے پیچھے چلانے والے ہوتے ہیں۔یعنی ایک طرف طاقت ہو۔دوسری طرف سیر تماشے دیکھنے کی خواہش ہو۔اور تیسری طرف علم روحانی سے ناواقفیت ہو۔یہ تین چیز یں جب جمع ہوجاتی ہیںتوانسان شیطان کے پیچھے چل پڑتا ہے۔پس یہ دونوں نظارے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ ؑ کے اسراء میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔مسیحیوں کے نزدیک اسلام انسانی جذبات کا خون کرتا ہے اوریہ جودکھایاگیاکہ اس عبد نے اس غلام کو مار دیا۔اوراس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعتراض کیا اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام کی دوسر ی تعلیم جو نصاریٰ کے لئے قابل اعتراض ہوگی وہ اسلام کالغو اموراورلہوولعب اورشراب سے روکناہوگا۔اس پر موسوی سلسلہ کے لوگ (یعنی خصوصاً مسیحی۔کیونکہ میں بتاچکاہو ں کہ دوسراساتھی جوحضرت موسیٰ نے دیکھاہے وہ حضرت مسیح ہیں۔اورمجمع البحرین کے پاس حضرت موسیٰ ؑ کی وہی امت باقی تھی جو حضرت مسیح ناصر ی کے ذریعہ سے آپ کوملی تھی۔ہاں دوسرے درجہ پر یہودبھی اس میں شامل ہیں )یہ اعتراض کریں گے کہ اسلام جوانی کومار تاہے اورانسان کوزندگی کالطف لینے نہیں دیتا۔اوریہ ظلم ہے اللہ تعالیٰ نے یہ طاقتیں زندگی کامزہ لینے کے لئے دی ہیں نہ اس لئے کہ ان کو تباہ کردیاجائے۔چنانچہ غورکرکے دیکھ لو کہ ان شیطانی اعمال کی وجہ سے بالعموم مسیحی لوگ اسلام سے متنفر ہیں کیونکہ ا س میں انہیں ان شیطانی افعال سے روکاگیاہے اور ان کے نزدیک گویا جوانی کااسلام نے خون کردیاہے۔قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا۰۰۷۶ اس (خداکے پیارے )نے کہا (کہ)کیامیں نے تجھے کہانہیں تھا (کہ)تومیرے ساتھ رہ کرہرگزصبر نہیں کرسکے گا۔تفسیر۔یہ آیت بھی ثبوت ہے اس کا کہ یہ کشف ہے کیونکہ جاگتے ہوئے کسی کو بلاوجہ قتل کردینا قطعاً حرام ہے۔