تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 575

نَفْسًا زَكِيَّةًۢ بِغَيْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ (اس پر )اس نے(یعنی موسیٰ نے )کہا(کہ )کیا (یہ سچ نہیں کہ )آپ نے (اس وقت )ایک پاکباز(اوربے گناہ) شَيْـًٔا نُّكْرًا۰۰۷۵ شخص کوکسی(کے خون)کے عوض کے بدوں (ناحق ہی)مارڈالاہے۔آپ نے یقیناً (یہ)بہت براکام کیا ہے۔حلّ لُغَات۔نُکْرًا۔اَلنُّکْرُ :اَلْمُنْکَرُ۔ناپسندیدہ بات۔اَلْاَمْرُ الشَّدِیْدُ۔مشکل کام۔اَلْقَبِیْحُ برا(اقرب) زَکِیَّۃٌ۔یہ زَکیٰ(یَزْکُوْ)سے فعیل کے وزن پر ہے۔اور زَکَی الشَّیْءُ کے معنی ہیں۔نَمَا۔اس چیز نے نشوونما پائی۔زَکَی الرَّجُلُ۔صَلُحَ وہ نیک و پاک ہوگیا۔تَنَعَّمَ وَکَانَ فِیْ خِصْبٍ۔خوب نازونعمت اورآسودگی میں ہوگیا۔بیضاوی نے غُلَامًازَکِیًّا کے معنے طَاھِرًامِنَ الذُّنُوْبِ نَامِیًا عَلَی الْخَیْرِ کے کئے ہیں یعنے گناہوں سے پاک اور نیکی میں نشوونماپانے والالڑکا (اقرب) تفسیر۔اس موقعہ پربھی حضرت استاذ ی المکرم یہ توجہ دلاتے تھے کہ اسراء کی حدیث میں آنحضرت صلعم کو جب جبریل بار با ر اِنْطَلِقْ اِنْطَلِقْ کالفظ کہتے تھے (خصائص الکبریٰ جلد ۱ صفحہ ۱۵۴،۱۵۵)موسیٰ کے واقعہ میں بھی اِنْطَلَقَ کالفظ بار بار آیا ہے۔پس یہ بھی دلیل ہے کہ یہ اسراء روحانی تھا۔قتل سے مراد حضرت خلیفہ اول کے نزدیک حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ۔جب ایک نوجوان کوملے تواسے اس ساتھی نے قتل کردیا۔حضرت استاذی المکر م فرماتے تھے۔اس جگہ ان اعتراضو ںکی طرف اشار ہ کیا ہے۔جوموسوی امت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پرکرنے والی تھی۔کہ کعب بن اشرف وغیرہ کو انہوں نے کیوںقتل کروایاہے اوراس کاجوب دیاہے۔میرے نزدیک یہ نظارہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے نظارہ کے مشابہ ہے اوراسی کے ہم معنی ہے۔رسول کریم صلعم نے واقعہ اسراء میں بڑھیاکے دیکھنے کے بعد دیکھاتھا کہ کوئی شخص آپؐ کو اپنی طرف بلاتا ہے مگرآپ نے اسے جواب نہ دیا۔نیز اس نظارہ کی تشریح کے لئے آپ کے سامنے شراب کاپیالہ پیش کیاگیا۔جس کے پینے سے آپؐ نے انکار کردیا۔اورجبریل نے ا س آدمی کی تعبیر شیطان کی۔اوراس پیالہ کی تعبیر غوایۃ۔جوشیطان کاکام ہے۔اسی طرح دوسرانظارہ حضرت موسیٰ کوغلام کادکھایاگیاہے۔جس کو محمدی