تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 570

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِي السَّفِيْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ پھر و ہ (دونوں وہاں سے )چل پڑے۔یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے۔تواس(خداکے برگزیدہ )نے قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ اس میں شگاف کردیا۔اس نے کہا(کہ )کیا آپ نے اس لئے شگاف کیا ہے کہ آپ اس کے اندر (بیٹھ کرجانے ) شَيْـًٔا اِمْرًا۰۰۷۲ والوں کو غرق کردیں آپ نے یقیناً (یہ)ایک ناپسندیدہ کام کیا ہے حلّ لُغَات۔اِنْطَلَقَا۔اِنْطَلَقَا اِنْطَلَقَ سے تثنیہ کاصیغہ ہے۔اوراِنْطَلَقَ کے معنے ہیں۔ذَھَبَ چلا گیا۔(اقرب) پس اِنْطَلَقَاکے معنے ہوں گے وہ دونوں چل پڑے۔خَرَقَہَا:خَرَقَہَا خَرَقَ الثَّوبَ کے معنے ہیں مَزَّقَہٗ کپڑے کو پھا ڑ دیا۔(اقرب) اَلْخَرْقُ:قَطْعُ الشَّیْءِ عَلٰی سَبِیْلِ الْفَسَادِ مِنْ غَیْرِ تَدَبُّرٍ وَلَاتَفَکُّرٍ۔کسی چیز کوخراب کرنے کے لئے۔بغیر سوچے سمجھے کاٹ دینا (مفردات ) اِمْرًا الْاِمْرُ کے معنے ہیںالْعَجِیْبُ۔عجیب۔اَلْمُنْکَرُ۔اوپرا۔ناپسندیدہ (اقرب) تفسیر۔آنحضرت کے اسراء اور موسیٰ کے اسراء میں فرق اس مقام سے حضرت موسیٰ کے اسراء کااصل واقعہ شروع ہوتا ہے۔اورامت محمدیہ اورامت موسویہ کے حالات کامقابلہ کیاگیا ہے۔استاذی المکر م حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ فرمایاکرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسراء اور حضرت موسیٰ کے اسراء میں یہ فرق ہے کہ رسول کریم صلعم نے سوال سے پرہیز کیا۔اورموسیٰ علیہ السلام نے صبر نہ کیا۔اس سے بتایاگیاہے کہ محمد رسول اللہ صلعم کی امت صبر سے دین پر قائم رہے گی۔اورحضر ت موسیٰ علیہ السلام کی امت بے صبری کرکے دین کو چھوڑ بیٹھے گی۔یہ ایک لطیف نکتہ ہے اورواقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔اسی طرح آپ فرماتے تھے کہ آنحضرت صلعم کے اسراء میں بھی تین واقعا ت دکھائے گئے تھے۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اسراء میں بھی تین ہی واقعات دکھائے گئے ہیں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے ا س پر مزید علم یہ بخشاہے۔کہ صرف تین