تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 568
تھا کہ جو خدا تعالیٰ بتاتاسن لیتے ورنہ صبر سے انتظارکرتے۔اوراس حکم پر عمل فرماتے کہ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰۤى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ١ٞ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا (طٰہ:۱۱۵)یعنی قرآن کریم کواپنے وقت پر نازل ہونے دو۔اور اس کی وحی کے آنے سے پہلے سوال نہ کیاکرو۔اوریہ دعاکرو کہ الٰہی میرے علم کوبڑھاتارہ۔وَ كَيْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا۰۰۶۹ اورجس بات کے علم کاتونے احاطہ نہیںکیا اس پر توصبر کر(بھی )کیونکرسکتاہے۔حلّ لُغَات۔لَمْ تُحْطِ بہٖ خُبْرًا کہتے ہیں اَحَاطَ بِہِ عِلْمًا اَیْ اَحْدَقَ عِلْمُہُ بِہِ مِنْ جَمِیْعِ جِھَاتِہِ وعَرَفَہُ۔کسی بات کی خوب واقفیت اورآگاہی حاصل کی (اقرب)پس لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا کے معنے ہوں گے کہ جس بات کے علم کاتونے احاطہ نہیں کیا۔تفسیر۔یہود کے ہدایت سے محروم ہونے کی وجہ اس میں اس طر ف اشار ہ ہے کہ موسوی سلسلہ کے لوگوں کے لئے محمدی علوم کاسمجھنا واقعہ میں مشکل ہوگا۔کیونکہ ا س دین میں بہت سے مسائل نئے بتائے جائیں گے۔اوراس شخص کے لئے جواپنے آپ کوعالم سمجھتاہو۔نئی بات کوماننامشکل ہوتاہے۔چنانچہ کفار جن کے دل صاف تختی کی طرح تھے۔وہ تو بہت جلد آپ پر ایمان لے آئے۔مگریہودونصاریٰ جن کے پاس خدا کاکلام موجود تھا محروم رہے۔کیونکہ ہربات جواسلام میں ان کی کتب کے خلاف ہوتی تھی۔ان کے صبر کے پیمانہ کوچھلکادیتی تھی۔اوروہ ابتلاء میں پڑ جاتے تھے۔حضرت مسیح ؑ کے وقت میں بھی اسی وجہ سے یہود ہدایت سے محروم رہے۔اورغیرقومیں اصرار کرکے اس دین میں شامل ہونے لگیں۔قَالَ سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِيْ لَكَ اس نے کہا (کہ )اگراللہ(تعالیٰ)نے چاہاتوآپ مجھے صابر پائیں گے۔اورمیںآ پ کے کسی حکم کی اَمْرًا۰۰۷۰ نافرمانی نہیں کروں گا۔تفسیر۔موسیٰ ؑ نے کہاکہ تومجھے صابر پائے گا۔اورمیں تیرے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔اس آیت سے