تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 560
نظارہ دکھایا کہ وہ مجمع البحرین کی طرف اپنے ساتھی کو لے کر گئے اوروہاں جاکران کاسفر ختم ہوگیا (درمنثور زیر آیت بنی اسرائیل ۱ تا ۸)۔فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ پس جب وہ(دونوں) ان(دونوں سمندروں کے)باہر ملنے کی جگہ پرپہنچے تووہ اپنی مچھلی (وہاں)بھول گئے۔جس سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا۰۰۶۲ پراس نے تیزی سےبھاگتے ہوئے سمندر میں اپنی راہ لی۔حلّ لُغَات۔اَلْحُوْتُ اَلْحُوْتُکے معنے ہیں اَلسَّمَکُ وَقَدْ غَلَبَ فِی الْکَبِیْرِ۔مچھلی او رزیاد ہ تربڑی مچھلی پر بولاجاتاہے۔(اقرب) اَلسَّرَبُ۔اَلسَّرَبُ:حُجْرُالْوَحْشِیِ۔وحشی جانور کے رہنے کی جگہ۔اَلْحَفِیْرُ تَحْتَ الْاَرْضِ۔زمین کے اندرگڑھا۔القَنَاۃُ۔یَدْخُلُ مِنْھَا الْمَاءُ۔پانی کی نالی۔نیز سَرَبٌ مصد ربھی ہے جس کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں (اقرب) تفسیر۔حوت کی تعبیر نَسِيَا حُوْتَهُمَا۔حوت کے معنے علم التعبیر میں یہ لکھتے ہیں’’رُبَّمَا دَلَّتْ رُؤْیَتُہُ عَلٰی مَعْبَدِ الصَّالِحِیْنَ وَمَسْجِدِ الْمُتَعَبِّدِیْنَ۔‘‘(تعطیر الانام کلمۃ حوت) حوت یعنی مچھلی کادیکھنا بہت نیک لوگوں کی عبادت کی جگہ اورعبادت گزاروں کی مسجد پر دلالت کرتاہے۔جیسا کہ اس آیت سے او راگلی آیت کے بعد کی آیت سے معلوم ہوتاہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مجمع البحرین کے مقام کی شناخت یہ بتائی گئی تھی کہ وہاںمچھلی غائب ہوجائے گی۔پس نَسِيَا حُوْتَهُمَاکے معنے یہ ہوئے۔کہ جس مقام پر ان لوگوں کے ہاتھوںسے نیک لوگوں کی عبادت گاہیں اورعبادت گزاروں کی مساجد نکل جائیں گی۔وہی مقام مجمع البحرین ہوگا۔یعنی جہاں موسوی سلسلہ ختم ہوجائے گااورمحمدی سلسلہ شروع ہوگا۔نَسِيَا حُوْتَهُمَا سے اشارہ ہے کہ موسیٰ اور ان کے فتی کی قوم سے عبادت کی قبولیت اٹھ جائے گی یہ مضمون کس قد واضح ہے۔ایک نئے نبی کے آنے سے نیکی اورعبادت پہلی قوم سے چھین لی جاتی ہے۔اوراس نبی کی قوم کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔اسی کی طرف اس کشف میں اشارہ کیا گیا ہے اوربتایا ہے کہ سلسلہ محمدیہ کے اجراء پر