تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 559
موسیٰ علیہ السلام کی ہجر ت کے بعد کی رہائش میں قریب ترین علاقے جہاںدوسمندر ملتے تھے یہ تین تھے۔باب المندب۔جہاںبحیرہ احمر اوربحرالہندملتے ہیں۔دردانیال۔جہاں بحیرہ روم اوربحیر ہ مارمور ہ ملتے ہیں یاپھر البحرین جہاں خلیج فارس کاسمندر بحرالہند سے ملتاہے۔یہ تینوں علاقے قریباً ہزارہزار میل دور ان کے وطن سے تھے۔اوراس زمانہ کے حالات کو مدنظر رکھ کر کوئی سال بھر کاسفربنتاتھا۔لیکن چونکہ کشف سے معلوم ہوتاہے کہ سمندر کے کنارے کنارے آپ سفرکررہے تھے۔اس لئے دردانیال کادرہ ہی ظاہری سمندر بنتاہے۔کیونکہ تینوں جگہوں میں سے صرف وہی جگہ ہے۔جس تک موسیٰ ؑ کی جائے رہا ئش ہے۔سمندر کے کنارے کنارے راستہ جاتاہے۔مگر یہی وہ راستہ ہے جس میں کنعان پڑتا ہے۔اورجس کے متعلق بائیبل شاہد ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اپنی زند گی میں وہاںنہیں جاسکے (استثناء باب ۳۴ آیت ۴،۵)۔پس یہ واقعہ بھی اس امر کاثبوت ہے کہ یہ ایک کشف تھا۔مجمع البحرین کی تعبیر اورمجمع البحرین کسی جگہ کانا م نہیں بلکہ ایک تعبیر طلب نام ہے چنانچہ تعطیرالانام میں لکھا ہے۔’’بَحْرٌ فی الْمَنَامِ یَدُلُّ عَلٰی مَلَکٍ قَوِیٍّ مَھَابٍ عَادِلٍ شَفِیْقٍ یَحْتَاجُ اِلَیْہِ الْخَلَائِقُ۔اورپھر لکھاہے رُبَّمَا دَلَّ الْبَحْرُعَلَی التَّسْبِیْحِ وَالتَّھْلِیْلِ (تعطیر الانام کلمة البحر) سمندرسے مراد زبردست بادشاہ جوعاد ل ہو ، شفیق ہو ،اوردنیا اس کی محتاج ہو۔اورایسا ہی سمندر کے معنے تسبیح و تہلیل کے بھی ہوتے ہیں۔اوراس میں گویا ’’سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ ‘‘کی طر ف اشارہ ہے۔پس مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ سے مراد درحقیقت و ہ زمانہ تھا۔جہاں حضر ت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ ختم ہوا۔اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ شروع ہوا۔یعنی وہ گھڑی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلاالہام نبوت ہوا۔مجمع البحرین تھی۔وہاں موسیٰ جو ایک روحانی عادل،شفیق اوردنیاکے لئے ضروری بادشاہ تھے ان کاعلاقہ ختم ہوتاتھا اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو اور بھی بڑے روحانی سمند ر تھے ان کا زمانہ شروع ہوتا تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کشف میں دوبڑے سمندروں کے ملنے کا مقام دکھا کر گویایہ بتایاگیا کہ اس زمانہ تک آپ کی امت کا زمانہ ہے۔آگے ایک اورسمندر شروع ہوتاہے۔آپ کا زمانہ ختم ہوکر اس نئے نبی کاکام شروع ہوگا۔اور وہی شخص روحانی زندگی کاسامان حاصل کرسکے گا جواس سمندر میں غوطہ لگائے گا۔ا س رؤیا میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیاہے کہ موسوی سلسلہ محمدی سلسلہ کے لئے بطور ارہاص ہے۔اورآخر یہ سمندراس سمندرمیں جاکرمل جائے گا۔اسی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوجوکشف دکھایاگیاتھااس میں تویہ نظارہ دکھایاگیا تھا کہ جبریل خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔مگرحضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ