تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 555
گئی ہیں۔اگرو ہ ظاہر ی لی جائیں تووہ ایسی نہیں ہیں کہ ان کے لئے کوئی معمولی مومن بھی سفرکرے کجا یہ کہ حضرت موسیٰ ؑ کو ان باتوں کے سیکھنے کے لئے بھیجاجائے۔کیاحضرت موسیٰ ؑ یہ سیکھنے گئے تھے۔کہ کشتی کاتختہ کیسے توڑا جاتاہے یاقتل کیونکر کیا جاتاہے یادیوار کےبنانے کی کیاترکیب ہے یااس پر اجر لیناچاہیے یانہیں۔ان باتوں کے سیکھنے کے لئے تو ایک جاہل گنواربھی سفر نہیں کرے گا۔غرض ان باتوںمیں سے کوئی بھی تو ایسی بات نہیں کہ جس کو ظاہرصورت میں مان کر حضرت موسیٰ ؑ جیسے اولوالعز م اورذی شان نبی کاسفرجائزاورمعقول قرار دیاجاسکے۔(۱۱)ماوردی نے روایت کی ہے کہ جس شخص کے پاس حضرت موسیٰ ؑ گئے تھے وہ ایک فرشتہ تھا (ابن کثیر) پس یہ واقعہ کشف ہی ماننا پڑے گاورنہ ظاہر ی سفر کرکے فرشتے کے پاس جانے کے کیا معنے ہوں گے۔فرشتہ توپل مارنے میں خود ان کے پاس آسکتاتھا۔(۱۲)آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’وَدَدْنَا اَنَّ مُوْسٰی کَانَ صَبَرَ حَتّٰی یَقُصَّ اللہُ عَلَیْنَا مِنْ خَبَرِھِمَا (بخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ و اذ قال موسیٰ لفتہ)کاش موسیٰ ؑ صبرکرتے اورخاموش رہتے تاکہ خدا تعالیٰ ہمیں ان کی اورخبریں بھی بتادیتا۔اگرا س واقعہ کو ظاہر ی واقعہ سمجھاجائے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان توبہت ارفع ہے میں بھی اپنے ذہن میں ان امورکے معلوم کرنے کاکوئی شوق نہیں پاتااورنہ ہی میرے نزدیک کوئی سمجھدار انسان ایسی سطحی باتوں کے متعلق زیادتی علم کی خواہش کرسکتاہے۔پس معلوم ہواکہ یہ آئندہ کی اخبار تھیں جوکشفی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام پرظاہر ہوئیں اور چونکہ وہ غیب پرمشتمل تھیں اورآئندہ امت محمدیہؐ کے حالات کوظاہرکرتی تھیں اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواہش تھی کہ کاش موسیٰ ؑ خاموش رہتے اوراوربھی باتیں کھل جاتیں۔ان دلائل سے ثابت ہے کہ یہ واقعہ کشف کاواقعہ ہے۔اگرچہ مصدقہ بائیبل کاکوئی حوالہ ہمیں نہیں ملتا جس میں اس واقعہ کاکسی رنگ میں بھی ذکر ہو۔مگر یہود کی روایات کی کتب میں ایسی رویات موجود ہیں اورمسلمانوں کی روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں بھی یہود میں ضروراس قسم کی روایات پائی جاتی تھیں ورنہ مسلمان انہیں کہاں سے لے سکتے تھے۔مگر یہود کی روایات کاہمار ی تحقیق پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔جب تک قرآن کریم عقل اورمشاہد ہ ان کی تصدیق نہ کرے۔ہم ان کوماننے پر مجبور نہیں۔بلکہ بغیر ان قیود کے ان کاماننا خطرہ سے خالی نہیں۔خلاصہ یہ کہ عقل ونقل اس واقعہ کو ایک کشف قرار دیتے ہیں۔