تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 553
جس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ سفرکوئی مادی واقعہ نہ تھا۔(۴ )حضرت موسیٰ بنی اسرائیل سے چالیس دن کےلئے چند میل دورپہاڑ پر خدا کاکلام سننے کے لئے گئے تواتنے ہی دنوں میں بنی اسرائیل نے بچھڑے کو معبود بنالیا۔جب چالیس دن کی غیرحاضری نے یہ تباہی مچادی تھی تواتنے لمبے سفر کی صورت میںکیانتیجہ ہواہوگا۔مگراس موقعہ پر بنی اسرائیل کے اندر کوئی فساد نہیں ہوا۔کیونکہ بائیبل میں اس فساد کے علاوہ اور کسی فساد کا ذکرنہیں۔نیز اس فساد کے بعد یہ دانشمندی کے خلاف ہوتاکہ آپ اتنالمباسفر کرتے۔(۵)چالیس دن کے سفر پرجاتے ہوئے حضرت موسیٰ ؑ اپنے بعد حضر ت ہارون کو خلیفہ مقررکرکے جاتے ہیںمگراس ایک دفعہ کے واقعہ کے بعد کہیں بھی ثابت نہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت ہارون یاکسی اورکو اپناخلیفہ مقرر کیاہو۔اگر سفر کا ذکر نہیں تھا توکم از کم اس نیابت کا ذکرتوضرور تورات میں ہوناچاہیے تھا۔مگرچونکہ ایساکوئی ذکر بائیبل میں نہیں ہے۔تویہی مانناپڑتا ہےکہ ایساکوئی جسمانی سفرواقعہ نہیں ہوا۔کیونکہ یہ توہرگزتسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ حضر ت موسیٰ ؑ سفر پرگئے ہوں اوراپنا جانشین مقررنہ کرگئے ہو ں۔(۶)یہ امر انبیاء کی سنت کے خلاف معلوم ہوتاہے کہ نبوت کے بعد وہ اپنی قوم سے ایک لمبے عرصہ کے لئے الگ ہوئے ہو ں۔جن انبیاء کاتاریخ سے ہمیں پتہ چلتاہے ان میں سے ایک کی سوانح میں بھی اس امر کاپتہ نہیں چلتا۔بے شک ہمارے عقیدہ کی روسے حضرت مسیح اپنی قوم سے الگ ہوئے۔مگروہ درحقیقت ایک حصہءِ قوم سے جداہوکر دوسرے حصہ کی طرف گئے تھے۔اوراس کی مثالیں بکثر ت انبیاء میں پائی جاتی ہیں۔کہ انہوں نے اپنی قوم کے اند رتبلیغی سفرکئے ہیں۔مگرحضرت موسیٰ کایہ سفرتبلیغی نہیں۔نہ اپنی قوم کے علاقہ میں ہے۔بلکہ وہ صرف یہ معلوم کرنے کے لئے اپنی امت کوچھوڑ کرچلے جاتے ہیں کہ ایک شخص مجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔(۷)حضرت ابن عباسؓ نے اسی واقعہ کے اند ر جوکنز کا ذکر ہے اس کی تعبیر میںفرمایا ہے۔مَاکَانَ الْکَنْزُ اِلَّاعِلْمًا(ابن کثیر سورۃ الکہف قولہ تعالیٰ ذالک تأویل ما لم تستطع علیہ صبرا)یعنی اس واقعہ میں جو کنز کا ذکر ہے۔اس سے علم کے سوااور کچھ مراد نہیں۔ظاہر ہے کہ یہ تعبیر ہے اورتعبیرکشف ہی کی ہوسکتی ہے۔اگروہ کنز علم تھا تویہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دیوار جو حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی نے بنائی وہ بھی ماد ی دیوار نہ تھی۔اورکھا ناطلب کر نے کاواقعہ بھی مادی نہ تھا۔اورجب یہ حصہ کشف تھا توظاہر ہے کہ ساراواقعہ ہی کشف تھا۔اس واقعہ کے کشف ہونے کاثبوت اندرونی شہادتوں سے (۸) واقعہ کی اندرونی شہادت بھی یہی