تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 549

اَمْضِيَ حُقُبًا۰۰۶۱ یاصدیوں تک (آگے ہی آگے) چلتاچلاجائوں۔حلّ لُغَات۔الفَتٰی اَلْفَتٰیکے معنے نوجوان کے ہیں۔اس کی جمع فِتْیَانٌ آتی ہے۔مزید تشریح کے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر ۶۳۔فِتْیَانٌ جَمْعُ فَتٰی کی ہے اس کے معنے جوان کے ہیں لیکن جب کسی کی طرف مضاف ہو تو ا س کے معنے بیٹے یا نوکر کے ہوتے ہیں جیسے فَتٰی زَیْدٍ زید کا بیٹا یا نوکر۔لَاابرحلَااَبْرِحُکے لئے دیکھویوسف آیت نمبر ۸۱۔مَابَرِحَ فُلَانٌ کَرِیْمًا اَیْ بَقِیَ عَلٰی کَرَمِہِ۔اَبْرَحُ بَرِحَ سے مضارع متکلم کا صیغہ ہے اور مَا بَرِحَ فُلَانٌ کَرِیْمًا کے معنے ہیں اپنی سخاوت پر قائم رہا۔(اقرب) بَرِحَ وَزَالَ اِقْتَضَیَا مَعْنَی النَّفِیْ وَلَا لِلنَّفِی وَالنَّفْیَانِ یَحْصُلُ مِنْ اِجْتِمَاعِھِمَا اِثْبَاتٌ۔بَرِحَاور زَالَ کے اندر نفی کے معنے پائے جاتے ہیں کیونکہ کسی جگہ سے چلے جانے کے مفہوم میں نہ موجود رہنا بھی داخل ہے جو نفی پر مشتمل ہے۔پس جب ان پر مَا یا لَا وغیرہ کوئی کلمہ داخل ہوگا تو نفی پر نفی داخل ہونے کی وجہ سے ان میں اثبات کے معنے یعنی کسی جگہ پر موجود رہنے کے معنے پیدا ہوجاتے ہیں۔(مفردات) اَمْضِیْ اَمْضِیْ مَضَی سے مضارع متکلم کاصیغہ ہے اورمَضَی الشَّیْءُ(یَمْضِیْ وَیَمْضُوْ) کے معنے ہیں ذَھَبَ وَخَلَا۔کوئی چیز گزر گئی اورچلی گئی (اقرب)پس اَمْضِیْ کے معنے ہوں گے کہ میں چلتاچلاجائوں۔حُقبًا۔حُقُبٌ حُقْبٌ کی جمع ہے۔اوراس کے معنے ہیں ثَمَانُوْنَ سَنَۃً۔اسّی سال کاعر صہ۔وَیُقَالُ اَکْثَرُ مِنْ ذَالِکَاوربعض کہتے ہیں اس سے بھی زائد عرصہ کوحُقُبٌ کہتے ہیں۔اَلدَّھْرُ۔زمانہ۔اَلسَّنَۃُ وَقِیْلَ السُّنُوْنَ مطلق ایک سال کے عرصہ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کرتے ہیں اوربعض کہتے ہیں کہ کئی سال کاعرصہ حقب کہلاتاہے۔(اقرب) تفسیر۔پہلے توتمثیلوں سے اس امر کوبتایاکہ عیسائیت اوراسلام کامقابلہ گوکمزوراورطاقتورکامقابلہ ہے لیکن غورکیا جائے توطاقتوروہ ہے جوخدا تعالیٰ کی طر ف توجہ کرتاہے ،وہ نہیں جو دنیا کے کاموں میں مشغول ہے۔اوراشارۃً یہ بھی بتایا کہ مسیحیت کی ترقی اس رنگ میں مقد رتھی کہ پہلے ایک دفعہ یہ قوم ترقی کرے۔پھررسول کریم