تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 548

سزادینے لگتا توکبھی کاہلاک کردیتا۔مگرخدا تعالیٰ ہوشیار کئے بغیر کسی قوم کوہلاک نہیں کرتا۔اس لئے وہ پہلے ان کوہوشیار کرے گا۔اورزمانہ کے مامورکے ذریعہ سے حجت پوری کرکے پھر پکڑے گا۔بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْىِٕلًا۔ان کے لئے وعدہ مقرر ہے۔و ہ ہرگز اس سے ہٹ کرکوئی پنا ہ کی جگہ نہ پائیں گے یعنی خدا تعالیٰ کو چھو ڑ کر اورکوئی بھی نجا ت کی جگہ ان کو نہ مل سکے گی۔وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ اوروہ (گزشتہ نبیوں کے مخالفوںکی)بستیاں جوہیں تو(ان کاواقعہ یوں ہے کہ)ہم نے اس وقت انہیں ہلاک کیا جب مَّوْعِدًاؒ۰۰۶۰ انہوں نے ظلم کیا۔اوران کی ہلاکت کے لئے (بھی )ہم نے ایک معیاد مقرر کردی تھی۔(تاو ہ چاہیں توتوبہ کرلیں ) تفسیر۔یعنی ہزاروں قومیں گذرچکی ہیں جب انہوں نے ظلم کیا۔یعنی اللہ تعالیٰ کے انذار کی قدرنہ کی توہم نے ان کو ہلاک کردیا۔اوران کی ہلاکت کی پہلے سے خبر دے دی جس کے مطابق وہ ہلاک ہوگئے۔پس اس قوم کو بھی سوچنا چاہیے کہ ان کو خواہ کس قدر ترقیا ت ہی کیوں نہ ملی ہوں۔پھر بھی وہ انسان ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ جب پہلے انسان خدا تعالیٰ سے منہ پھیر کرہلاک ہوئے تویہ ہلاک نہ ہو ں۔آجکل قریباً ۹۹فیصدی لوگوں کاخیال ہے کہ اب یورپ تبا ہ نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بیوقوفی کی بات ہے پہلی بادشاہتوں کے زمانوں میں کو ن کہتاتھا کہ وہ تبا ہ ہوں گی۔مسلمانوں کے متعلق کون کہتاتھا کہ ان کی حکومت تبا ہ ہوگی۔اسی طرح رومیوں کی حکومت او رایرانیوں کی حکومت کے متعلق بھی کوئی اس وقت گمان نہ کرتاتھا۔لیکن ساری تباہ ہوگئیں۔اسی طرح ان کی بادشاہت کے تباہ ہونے کے متعلق بھی حیرانی اورتعجب خلاف عقل ہے۔وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ اور(تم اس وقت کو بھی یاد کرو)جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (رفیق)سے کہا تھا (کہ )میں(جس راستے پرجارہا حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ اَوْ ہوں اس پر قائم رہنے سے )نہیں ٹلوں گایہاں تک کہ ان دونوں سمندروں کے اکٹھے ہونے کے مقام پر پہنچ جائو ں