تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 547

فَلَنْ يَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا۰۰۵۸ (پیداکردی ہے)اوراگرتوانہیں ہدایت کی طرف بلائے تو(وہ تجھ سے اس قدر حسد رکھتے ہیں کہ)اس صورت میں وہ ہدایت کو(بھی)کبھی قبول نہیں کریں گے۔تفسیر۔فرماتا ہے اس سے زیادہ ظالم اورکون ہو سکتا ہے جسے ا س کے رب کی باتیں سنائی جائیں تووہ ان کوحقیر سمجھے اوران سے اعراض کرے اوراس بات کونہ سوچے کہ میں نے خود اپنی عقل سے جوکام کئے ہیں۔وہ کس طرح فساد فتنہ اورجنگ کے موجبات بن رہے ہیں۔پس باوجود اس تجربہ کے کہ وہ اپنی عقل سے امن پیدا نہیں کرسکا۔پھر بھی خدائی امداد اورہدایت کی طرف اس کاتوجہ نہ کرناگویااپنے تجربہ کوٹھکرادینے کے مترادف ہے پھر وہ قوم جوتجربوں پر اپنے کاموں کی بنیا د رکھنے کی مدعی ہے وہ کس قدرمجرم اورغافل ہوتی ہے کہ جزئی تجربوںکوتوا س قدر قیمت دیتی ہے۔مگرساری قوم کے تجربہ اوراس کے نتیجہ سے فائدہ نہیں اٹھاتی۔فرماتا ہے اس کانتیجہ اس کے سوااور کیا نکل سکتاتھا۔کہ جب انہوں نے سمجھ سے کام لینے سے انکار کردیا ہے توہم بھی ان کوسمجھ سے محروم کردیں۔اورانہیں ان کے حال پر چھو ڑدیں کہ خواہ کوئی کتنی ہی انہیں نصیحت کرے یہ فائدہ نہ اٹھاسکیں۔وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا اورتیرارب بہت ہی بخشنے والا (اوربہت ہی )رحمت کرنے والا ہے۔اگروہ اس کی وجہ سے جوانہوں نے (اپنی جانوں كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ کے لئے )کمایا ہے۔انہیں ہلاک کرناچاہتاتووہ ان پر فوراً عذاب نازل کردیتا۔(مگر وہ ایسانہیں کرتا )بلکہ ا ن کے لَّنْ يَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْىِٕلًا۰۰۵۹ لئے ایک میعاد (مقرر)ہے جس سے ورے (یعنی پیشتراس کے کہ عذاب کوبھگتیں)ہرگز کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے تفسیر۔لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ۔اگران کو خدا تعالیٰ ان کے اعما ل کی وجہ سے