تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 546

اتَّخَذُوْۤا اٰيٰتِيْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا۰۰۵۷ نے میرے نشانوں کو اور(میرے )انذارکو ہنسی کا نشانہ بنالیاہے۔حلّ لُغَات۔اَلْبَاطِلُ اَلْبَاطِلُ کے لئے دیکھو نحل آیت نمبر۷۳۔لِیُدْحِضُوْابہِ لِیُدْحِضُوا بِہِ أَدْحَضَ سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اوراَدْحَضَ الْقَدَمَ کے معنی ہیں اَزْلَقَہَا پائوں کو پھسلا دیا۔اَدْحَضَ الْحُجَّۃُ: اَبْطَلَھَاوَاَزَالَھَا وَدَفَعَھَا دلیل کو پوری طرح رد کیا دورکیا مٹایا (اقرب)پس لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ کے معنی ہوں گے۔کہ وہ حق کومٹادیں۔دورکردیں۔تفسیر۔لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ کے معنی یہ ہوئے کہ کافرلوگ باطل کو لے کر جھگڑااوربحث کرتے ہیں۔تاکہ اس کے ساتھ حق کو دنیاسے نکال دیں ،باطل کردیں۔وَ اتَّخَذُوْۤا اٰيٰتِيْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا۔یعنی ہم نشانات تودکھاتے ہیں لیکن یہ ہنسی کرتے ہیں۔اس وقت یورپ والوں کی یہی حالت ہے۔نشانات کی طرف ان کی بالکل توجہ نہیں۔بلکہ ان امور کو بیوقوفوں کے توہما ت سمجھتے ہیں۔اورعقلی ڈھکونسلوں کی طرف توجاتے ہیں۔مگرخدائی نشانوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ اوراس شخص سے زیاد ہ ظالم کون (ہوسکتا)ہے۔جسے اس کے رب کے نشانوں کے ذریعہ سے سمجھایاگیا۔(لیکن ) نَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ پھر( بھی) وہ ان سے روگردان ہوگیا۔اورجوکچھ اس کے ہاتھوں نے (کماکر )آگے بھیجا تھا۔اسے اس نے بھلادیا يَّفْقَهُوْهُ وَ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى ان(لوگوں )کے دلوں پر ہم نے یقیناً کئی پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اسے سمجھیں اوران کے کانوں میں گرانی