تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 545
وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ اوران لوگوںکو جب ان کے پاس ہدایت آئی تو(اس پر)ایما ن لانے اوراپنے رب سے يَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ اَوْ بخشش چاہنے سے صرف اس بات نے روکاکہ پہلے لوگوں کی سی حالت ان پر (بھی)آئے۔يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا۰۰۵۶ یاپھر عذاب ان کے سامنے آکھڑاہو۔حلّ لُغَات۔السُّنَّۃُ اَلسُّنَّۃُکے لئے دیکھو حجر آیت نمبر ۱۴۔اَلسُّنَّۃُ۔اَلسِّیْرَۃُ سنت کے معنی ہیں دستور۔اَلطَّرِیْقَۃُ۔طریقہ۔اَلطَّبِیْعَۃُ۔طبیعت عادت۔(اقرب) قُبُلاً۔اَلْقُبُلُ: نَقِیْضُ الدُّبْرِ۔سامنے کاحصہ(اقرب) تفسیر۔یعنی قرآن کریم میں ہدایت کاایساسامان موجود ہے کہ اس کے بعد ہدایت میں کوئی روک نہیں ہونی چاہیے تھی۔اورچاہیے تھا کہ اس کے مضامین کو سن کریہ لوگ اپنے غلط عقائدسے تائب ہوتے لیکن یہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔گویا یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ ہم توضرور عذاب ہی لیں گے۔سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ اس سے مراد آخری ہلاکت ہے اور اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا سے مراد درمیانی عذا ب ہیں یعنی دونوں قسم کے عذابوںکو یہ بلارہاہے۔وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ١ۚ وَ اورہم رسولوں کوصرف بشارت دینے والا اور(عذاب کی آمد سے )آگا ہ کرنے والابناکربھیجتے ہیں۔اورجن لوگوں يُجَادِلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ نے انکار کیا ہے۔و ہ جھوٹ کے ذریعہ سے اس لئے جھگڑتے ہیں۔کہ اس کے ذریعہ سے حق کومٹادیں۔اورانہوں